زکوۃ و نصاب زکوۃ

پراویڈنٹ فنڈ کی رقم پر قبضہ سے پہلے زکوۃ کی ادائیگی کا حکم

فتوی نمبر :
33633
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

پراویڈنٹ فنڈ کی رقم پر قبضہ سے پہلے زکوۃ کی ادائیگی کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آیا زکوٰۃ پراویڈنٹ فنڈ کے وصول پر واجب ہوتی ہے (ریٹائرمنٹ پر/ پراویڈنٹ فنڈ سے قرض لینے پر ) یا اس کو اثاثہ سمجھا جائے (مثال کے طور پر ملازمین کی تحویل میں جمع ہو ) یا پھر سالانہ کے حساب سے ادا کرنی ہوتی ہے؟ زکوٰۃ پچھلے سالوں پر بھی ہوگی یا صرف اس سال پر جب پیسے وصول ہو؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پراویڈنٹ فنڈ کی رقم جب تک ملازم کے قبضے میں نہ آئے اس وقت تک اس پر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ لازم نہیں ، البتہ ملازم کے قبضے میں آنے کے بعد آئندہ سالوں کی زکوٰۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، أو بصنعه كما لوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض الخ (2/ 10)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اشرف حاتم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 33633کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات