زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیااپنے بہن بھائیوں کو زکوٰۃ کی رقم سے کپڑے خرید کر دینا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
34207
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیااپنے بہن بھائیوں کو زکوٰۃ کی رقم سے کپڑے خرید کر دینا جائز ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
پوچھنا یہ تھا کہ اگر کوئی شخص جس پر زکوٰۃ لازم ہو نقد کی بجائے اپنے کسی بہن بھائی کو جو زکوٰۃ کا حقدار ہو، اسے تحفے میں کپڑوں کا جوڑا یا کوئی اور ایسی چیز دے اور اسے یہ نا بتائے کہ یہ زکوٰۃ کے پیسوں سے لیا ہوا سوٹ ہے، تو ایسا کرنا ٹھیک ہے یا نہیں وضاحت کردیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں اپنے کسی بھائی یا بہن کو جو زکوٰۃ کے مستحق ہوں بتائے بغیر بھی کپڑے یا دوسری چیزیں زکوٰۃ کی نیت سے بطور تحفہ دینے سے بھی زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى – الخ (1/170)
وفیھا ایضاً: والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات الخ (1/190)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله: وإلى من بينهما ولاد) أي بينه (الی قولہ) وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة.الخ (2/346)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاسم على رفيع عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 34207کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات