السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ مندرج ذیل مسئلہ کا جواب تحریر فرما کر عنداللہ ماجور ہونگے بڑی مہربانی ہوگی۔
دو بھائی بہن ہے ، بھائی بہت غریب ہے شرعی اعتبار سے مستحق زکوٰۃ ہے بہن کی مالی حالت اچھی ہے وہ اپنی زکوٰۃ نکالتی ہے بھائی اپنی عزت کے خاطر بہن سے اپنے حالات بیان نہیں کرتا ، بہن اپنی زکوٰۃ نکالتی ہے، تو بھائی کو ہی دیتی ہے کسی مستحق کو دینے کے واسطے اگر بہن کو معلوم ہوتا تو ضرور بالضرور اپنے بھائی ہی کو اپنی زکوٰۃ دیتی ہے، تو ان صورت میں کیا بھائی اس زکوٰۃ کو خود استعال کرسکتا ہے؟
مذکور عورت کا بھائی اگر مستحق زکوٰۃ ہو، اور زکوٰۃ دیتے وقت اس کی بہن اسے متعین افراد میں خرچ کرنے کے متعلق کچھ نہ کہے، بلکہ یہ کہے کہ جہاں چاہے خرچ کریں، تو ایسی صورت میں مستحق بھائی کے لیے زکوٰۃ کی رقم اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہوگا ورنہ نہیں ، تاہم اگر مذکور بہن زکوٰۃ کی ادائیگی کی نیت سے اپنے بھائی کو ہدیہ اور گفٹ کہہ کر زکوٰۃ کی رقم دیدے تو بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، زکوٰۃ کا اظہار کرنا ضروری نہیں، اوراسے ایساہی کرنا چاہیے۔
کما فی الدرالمختار: وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت،الخ (2/269)۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله: لولده الفقير) وإذا كان ولدا صغيرا فلا بد من كونه فقيرا أيضا لأن الصغير يعد غنيا بغنى أبيه أفاده ط عن أبي السعود وهذا حيث لم يأمره بالدفع إلى معين؛ إذ لو خالف ففيه قولان الخ (2/269)۔