زکوۃ و نصاب زکوۃ

تجارت کی غرض سے خریدے گئے پلاٹ میں رہائش اختیار کرنے کی صورت میں زکوٰۃ کا حکم

فتوی نمبر :
35406
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

تجارت کی غرض سے خریدے گئے پلاٹ میں رہائش اختیار کرنے کی صورت میں زکوٰۃ کا حکم

آپ سے مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ میں نے ایک پلاٹ " انویسٹمنٹ" پوائنٹ آف ویو سے لیا تھا ماشاء اللہ اس پلاٹ کی قیمت کافی زیادہ ہوگئی ہے، اور ہر سال بڑھتی جارہی ہے، جہاں تک میری معلومات ہے اس پلاٹ کو اس نیت سے خریدا گیا ہے، کیا اس نیت سے خریدے گئے پراپرٹی پر زکوٰۃ دینی ہوگی ؟مسئلہ اب یہ آرہا ہے کہ پلاٹ کی قیمت کافی بڑھ گئی ہے تو مجھے اس کی زکوٰۃ ادا کرنے میں مشکل ہو رہی ہے، میرے بچے بڑے ہیں، اور ان کے تعلیمی اخراجات کافی زیادہ ہیں ، تو میں پوری زکوۃ ادا نہیں کرپارہا ہوں، دوسری طرف میں اس پلاٹ کو رکھنا بھی چاہتا ہوں ، تاکہ مجھے آگے ضرورت کے وقت کام آسکے، آپ سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں، اور یہ بتائیں کہ کیا کوئی ایسی صورت ہوسکتی ہے کہ میں پلاٹ اپنے پاس ہی رکھوں اور مجھے زکوٰۃ نہ دینی پڑے، آپ کا جلد اور تفصیلی جواب کا انتظار رہے گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

تجارت کی غرض سےلئے گئے پلاٹ میں اگر تجارت کی نیت ختم کر کے اس کو رہائش یا کرایہ پر دے کر اس سے فائدہ اٹھانےکی نیت کی جائے تو آئندہ کے لیے اس کی مالیت پر زکوٰۃ لازم نہ ہوگی، اگر چہ بعد میں بوقت ضرورت اسےبیچ دیا جائے، تاہم اس پلاٹ کو کرایہ پر دینے کی صورت میں اس سے حاصل ہونے والی کرایہ کی رقم پر دوسرے اموال زکوٰۃ کے ساتھ ملا کر زکوٰۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدرالمختار: (لا يبقى للتجارة ما) أي عبد مثلا (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لا يصير للتجارة) وإن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة. الخ (2/272)۔
وفی الھندیة: ومن اشترى جارية للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة كذا في الزاهدي. الخ (1/174)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیراحمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 35406کی تصدیق کریں
0     23
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات