زکوۃ و نصاب زکوۃ

سونے کی زکوۃ میں قیمت فروخت کا اعتبار کیا جائے گا۔

فتوی نمبر :
36639
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

سونے کی زکوۃ میں قیمت فروخت کا اعتبار کیا جائے گا۔

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سونے کے زیور پر زکوٰۃ کس ریٹ پر دی جائے جس ریٹ پر خریدا گیا یا جو آج کل کا موجود ریٹ ہے؟ اور کیا ہم زکوٰۃ دو قسطوں میں ادا کر سکتے ہیں یا ایک مشت ادا کی جائیگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں قیمت فروخت کا اعتبار ہوتا ہے، اس لیے زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت سونے کا جو مارکیٹ ریٹ ہوگا، اس کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔
(2) جی ہاں زکوٰۃ تھوڑی تھوڑی کر کے بھی ادا کی جاسکتی ہے، تاہم افضل اور بہتر یہ ہے کہ سال مکمل ہونے کے بعد زکوٰۃ فوری طور پر ادا کر دی جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضةالخ (1/179)۔
وفی الدر المختار: وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، الخ (2/286)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله وافتراضها عمري) قال في البدائع وعليه عامة المشايخ، ففي أي وقت أدى يكون مؤديا للواجب، ويتعين ذلك الوقت للوجوب، الخ (2/271)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 36639کی تصدیق کریں
0     274
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات