کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھ پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟ میری عمر ستائیس سال ہے، اور میری تنخواہ تینتیس(33000) ہزار روپے ہیں، میری شادی ہوئی دو سال ہوئے ہیں، میری بیوی کے زیور کی مالیت کی زکوٰۃ سینتیس ہزار روپے بنتی ہے، جو میری ادائیگی سے زیادہ ہے، مشکل سے گزارہ کر رہا ہوں، اور وہ کچھ سونا بیچنے پر راضی بھی نہیں ہے، تو میرے لیے مشکل ہے زکوٰۃ دینا کمیٹی ڈال کر پورا کر رہا ہوں، لیکن مجھے باقی ضروریات کے لیے پھر قرض لینا پڑتا ہے، سونا حفاظت کی غرض سے مکمل انہی کے گھر میں ہے، جب ضرورت ہوتی ہے بیوی لے آتی ہے گھر میں، مہربانی فرما کر مجھے بتائیں ایسے حالات میں بھی زکوٰۃ واجب ہے؟
مذکور سونا اگر سائل کی بیوی کی ملکیت ہو تو اس کی زکوٰۃ بھی بیوی کے ذمہ لازم ہے نہ کہ سائل پر اگر بیوی اس کی زکوٰۃ ادا کرنے سے قاصر ہو تو نصاب زکوٰۃ ساڑھے سات تولہ سے کم رکھے تاکہ زکوٰۃ کی عدم ادائیگی کے جرم کی مرتکب نہ ہو۔
کما فی خلاصة الفتاوی: الزکوٰۃ انما تجب اذا ملک نصابا تاماً نامیا حولاً الخ (1/235)۔
کما فی الدرالمختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) ( الی قولہ) (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) ( الی قولہ) (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) (الی قولہ) (نام ولو تقديرا) الخ (2/263)۔