زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا مقروض شخص کو زکوٰۃ دینا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
36813
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا مقروض شخص کو زکوٰۃ دینا جائز ہے؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا میں مقروض کی مدد کرنے کے لیے اس کو ذکوٰۃ دے سکتا ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جس شخص کو سائل دینا چاہے اگر وہ قرض کی وجہ سے مستحق زکوٰۃ بن چکا ہو، یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کا مالک نہ رہا ہو، تو وہ شخص مستحق ہے سائل اس کو زکوٰۃ کی مد سے رقم دے سکتا ہے، بلکہ اسے دینا عام فقیر سے افضل ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: وأما قوله تعالى: {والغارمين} [التوبة: 60] قيل: الغارم الذي عليه الدين أكثر من المال الذي في يده أو مثله أو أقل منه لكن ما وراءه ليس بنصاب.الخ (2/45)۔
و فی الدرالمختار: (ومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) وفي الظهيرية: الدفع للمديون أولى منه للفقير. الخ (2/343)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 36813کی تصدیق کریں
0     154
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات