کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا میں مقروض کی مدد کرنے کے لیے اس کو ذکوٰۃ دے سکتا ہوں۔
جس شخص کو سائل دینا چاہے اگر وہ قرض کی وجہ سے مستحق زکوٰۃ بن چکا ہو، یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کا مالک نہ رہا ہو، تو وہ شخص مستحق ہے سائل اس کو زکوٰۃ کی مد سے رقم دے سکتا ہے، بلکہ اسے دینا عام فقیر سے افضل ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما قوله تعالى: {والغارمين} [التوبة: 60] قيل: الغارم الذي عليه الدين أكثر من المال الذي في يده أو مثله أو أقل منه لكن ما وراءه ليس بنصاب.الخ (2/45)۔
و فی الدرالمختار: (ومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) وفي الظهيرية: الدفع للمديون أولى منه للفقير. الخ (2/343)۔