زکوۃ و نصاب زکوۃ

اگر کسی کے پاس کیش رقم نہ ہو تو وہ زکوٰۃ کیسے ادا کرے؟

فتوی نمبر :
38229
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

اگر کسی کے پاس کیش رقم نہ ہو تو وہ زکوٰۃ کیسے ادا کرے؟

حضرت مفتی صاحب!
ایک شخص کے پاس گودام میں پچاس لاکھ کا مال پڑا ہوا ہے، اور وہ پندرہ لاکھ کا مقروض بھی ہے ، جبکہ کیش بھی ہاتھ میں نہیں، اب ایسا شخص زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شخص مذکور کے پاس موجود مال اگر تجارت کی غرض سے رکھا گیا ہو، اور اس مال پر ایک سال قمری بھی گزر چکا ہو، تو اس سے قرض منھا کرنے کے بعد بقیہ مال کی مالیت کے بقدر زکوٰۃ دینا لازم ہے، البتہ فوری کیش نہ ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ کی ادائیگی ابھی ممکن نہ ہو، تو شخص مذکور کیش کا انتظام ہونے پر یا مذکور مال کے فروخت ہونے کے بعد حاصل شدہ رقم سے تھوڑا تھوڑا کر کے قسطوار بھی زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایة: ومن كان عليه دين يحيط بماله فلا زكاة عليه " وقال الشافعي رحمه الله تجب لتحقق السبب وهو ملك نصاب تام ولنا أنه مشغول بحاجته الأصلية فاعتبر معدوما كظماء المستحق بالعطش وثياب البذلة والمهنة " وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا " الخ (1/95)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ذاکراللہ امان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38229کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات