السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت ہے جس کے پاس 4 تولے سونااور کچھ نقدی ہے، اور تقریباً 30 سال سے اس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی، اور اب وہ فوت ہوگئی ہے، اور ورثاء اس کے مال سے زکوٰۃ دینا چاہتے ہیں، تو اب سوال یہ ہے کہ اس پر زکوٰۃ دینا واجب ہے کہ نہیں؟اگر دینا واجب ہے تو ان 30 سال کی زکوٰہ دینے کی کیا صورت ہوگی؟ نیز 30 سال پہلے سونے کی قیمت بہت کم تھی بنسبت آج کے، اور ہر سال قیمت میں اضافہ اور کم ہونا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ اب تقریباً 90000 ہزار تک پہنچ چکی ہے، تواب سوال یہ ہے کہ کیا زکوٰۃ ہر سال کے اعتبار سے جو اس وقت نرخ تھا دی جائے گی؟ یا اب آج اسی وقت کے اعتبار سے آج ہی کی قیمت کا اندازہ لگا کر کل سالوں کی زکوٰۃ دی جائے گی؟ نیز، ان تمام سالوں کی قیمت فروخت کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے، تو اگر قیمت خرید کے اعتبار سے دی جائے، تو اس میں کیا کچھ حرج تو نہیں ہوگا؟ کیونکہ جس عورت کا سونا ہے وہ تو فوت ہوچکی ہے، اور اس کے ترکہ میں ورثاء کا حق بھی ہے، تو اگر کوئی ایک وارث بھی ناراض ہو قیمت خرید کے اعتبار سے زکوٰۃ دینے پر تو پھر کیا صورت ہوگی زکوٰۃ دینے کی؟
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ مرحومہ کے پاس اس چار تولہ سونا کے ساتھ نقدی کتنی تھی؟پھر یہ کہ مرحومہ نے اس سونے کی زکوٰۃ ادا کرنے کی وصیت کی ہے یا نہیں؟تاہم مذکور سونے کے ساتھ اگر سال بھرکچھ رقم ( خواہ کتنی ہی ہو) موجود رہی ہوجس کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر ہو، تو مرحومہ پر اس کی زکوٰۃ لازم تھی ، جو اس نے ادا نہیں کی ، چنانچہ مرحومہ نے اگر اس زکوٰۃ ادا کرنے کی وصیت کی ہو، تو کفن دفن اورقرضوں کی ادائیگی کے بعد ترکہ کی ایک تہائی سے جتنے سالوں کی زکوٰۃ ادا ہوسکتی ہے، تو ورثاء پر موجودہ قیمت کے اعتبار سے اس کی زکوٰۃ لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار: (وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا الخ (6/760)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله وأما دين الله تعالى إلخ) محترز قوله من جهة العباد وذلك كالزكاة والكفارات ونحوها الخ (6/760)۔
وفی بدائع الصنائع: وبنوا على بعض مسائل الجامع فيمن كانت له مائتا قفيز حنطة للتجارة قيمتها مائتا درهم فحال عليها الحول فلم يؤد زكاتها حتى تغير سعرها إلى النقصان حتى صارت قيمتها مائة درهم أو إلى الزيادة حتى صارت قيمتها أربعمائة درهم، (الی قولہ) وعند أبي يوسف ومحمد إن أدى من عينها يؤدي خمسة أقفزة في الزيادة والنقصان جميعا، كما قال أبو حنيفة: وإن أدى من القيمة يؤدي في النقصان درهمين ونصفا وفي الزيادة عشرة دراهم؛ لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا الخ ( 2/22)۔