مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ جو پلاٹ ہم قسطوں پر خریدتے ہیں،تو جب قسطیں مکمل ہونگی اور پلاٹ ہماری ملکیت بن جائیگا تو تب ہی اس پر زکوۃ دینا ہوگی؟ کیونکہ اس پلاٹ پر گھر نہیں بنانا بلکہ پراپرٹی کے طور پر رکھنا ہے،تو کیا زکوۃ بھی لگتی ہے؟
پلاٹ کو اگر تجارت کی نیت سے خریدا گیا اس طور پر کہ خریدتے وقت آگے فروخت کرنے کی نیت ہو تو خریدتے ہی وہ خریدنے والے کی ملکیت بن جاتی ہے،اس لئے اس وقت سے ہی اس پر باقی ماندہ قسطیں منہا کرنے کے بعد اس کی مالیت پر زکوۃ لازم ہوگی۔جبکہ سائل پر مذکور پلاٹ کی مالیت پر زکوٰۃ لاگو نہیں ہوگی ۔
کمافی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما صفة هذا النصاب فهي أن يكون معدا للتجارة وهو أن يمسكها للتجارة وذلك بنية التجارة مقارنة لعمل التجارة (2/ 21)۔
وفی البحر الرائق: (قوله: وفي عروض تجارة بلغت نصاب ورق أو ذهب) معطوف على قوله أول الباب في مائتي درهم أي يجب ربع العشر في عروض التجارة إذا بلغت نصابا من أحدهما الخ (2/ 245)۔
وفی الدر المختار: (أو) في (عرض تجارة قيمته نصاب) الجملة صفة عرض وهو هنا ما ليس بنقد. (2/ 298)۔