زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ کے پیسوں سے بنے ہوئے کھانے کو فروخت کرنے کاحکم

فتوی نمبر :
41352
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ کے پیسوں سے بنے ہوئے کھانے کو فروخت کرنے کاحکم

محترم مفتیان کرام السلام علیکم
سب سے پہلے آپ کی خیریت نیک مطلوب ہے، دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ،اور آپ کے علم وعمل میں مزید خیر وبرکت عطا فرمائے (آمین)
گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل مسئلے میں ہمیں قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی چاہئیے ، جیسے دیگر شہروں میں سفید پوش اور غرباء کی اعانت کے لئے دسترخوان لگے ہوتے ہیں، ایسے ہم دستر خوان بنانا چاہ رہے ہیں ،اور اس کا طریقہ کار ہم نے سوچا ہے کہ اپنے دوست واحباب اور دیگر ملنے ملانے والوں سے رابطہ کر کے مالی تعاون لیں گے،چونکہ عام طور پر تعاون زکوٰۃ کی مد میں کرتے ہیں، دیگر جو خرچ کرنے کی صورتیں ہیں صدقات نافلہ وغیرہ وہ بہ نسبت زکوٰۃ کے کم ہوتی ہیں، اب جو رقم ہم دسترخوان پر خرچ کرنا چاہتے ہیں، اس کے لئے ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ ہم دستر خوان پر کھانا نہیں کھلائیں گے ،بلکہ کھانے کا پیکٹ جاکر 20 روپے کا فروخت کریں گے ،تا کہ خوددار قسم کے لوگ جو ایسے کھانا تناول کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں ،اور گھر کی مستورات و بچوں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ایسے کھانے کے لئے آنا بھی مشکل کام ہے ،تو ہم نے یہ صورت رکھی ہے کہ کھانے کی جو قیمت ہوگی ،اس کی مد میں 20 روپے وصول کریں گے، بقایا خرچ ہم زکوٰۃ کی رقم سے کیسے پورا کریں ؟ اس میں آپ ہماری راہ نمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زکوٰۃ اور صدقات واجبہ سے بنے ہوئے کھانے کو فروخت کرنا اگر چہ کم قیمت پر ہی کیوں نہ ہو، کسی طرح درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ نفلی صدقات اور ہدایاوغیرہ سے بنے ہوئے کھانے کو معمولی قیمت پر فروخت کرنے کی رقم دینے والوں سے اجازت نہ لی جائے، تو ایسی صورت میں اسے بھی فروخت کرنا درست نہیں ، البتہ اگر صدقہ دینے والوں سے معمولی قیمت پر فروخت کرنے کی اجازت لے لی جائے ،تو ایسی صورت میں ہدایا و غیرہ سے بنے ہوئے کھانے کو فروخت کیا جا سکتا ہے ، لیکن حاصل شدہ رقم کو ذاتی استعمال میں لانے کے بجائے ادارے کے رفاہی فنڈ میں جمع کرنا لازم ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: دفع الزكاة إلى صبيان أقاربه برسم عيد أو إلى مبشر أو مهدي الباكورة جاز إلا إذا نص على التعويض اھ (2/ 356)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله إذا نص على التعويض) ينبغي أن يكون مبنيا على القول بأنه إذا سمى الزكاة قرضا لا تصح وتقدم أن المعتمد خلافه، وعليه فينبغي أنه إذا نواها صحت وإن نص على التعويض إلا أن يقال إذا نص على التعويض يصير عقد معاوضة والملحوظ إليه في العقود هو الألفاظ دون النية المجردة اھ (2/ 356)۔
و في الفتاوى الهندية: أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى هذا في الشرع كذا في التبيين اھ (1/ 170)۔
و فى المبسوط للسرخسي: قال: "ولا يجزى في الزكاة عتق رقبة ولا الحج ولا قضاء دين ميت ولا تكفينه ولا بناء مسجد" والأصل فيه أن الواجب فيه فعل الإيتاء في جزء من المال ولا يحصل الإيتاء إلا بالتمليك فكل قربة خلت عن التمليك لا تجزى عن الزكاة اھ (2/ 365)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
زاہدوقاص عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 41352کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات