زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا مکان کی قیمت کی مد میں ملنے والی رقم پر فوری زکوٰۃ لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
41600
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا مکان کی قیمت کی مد میں ملنے والی رقم پر فوری زکوٰۃ لازم ہوگی؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری زکوٰۃ کا سال رمضان کو مکمل ہوتاہے، اور رمضان کو حساب کر کے میں زکوٰۃ نکالتا ہوں، اب میں نے ایک مکان خریدا تھا، سال پہلے رہائش کی نیت سے اور اس کو کرایایہ پر دیتا رہا، سال تک پھر سال قبل میں نے ارادہ کیا اس کو بیچنے کا، اور اب یہ گھر بکا ہے جبکہ میں رمضان کو زکوٰۃ نکال چکا ہوں، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا مجھے گھر کے مد میں ملنے والی رقم کی زکوٰۃ فورا نکالنی ہوگی، یا پھر اگلے سال رمضان کو نکالوں گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو مکان فروخت کرنے سے جو قیمت حاصل ہوئی ہے ، اس پر فوری زکوٰۃ لازم نہیں ، البتہ یہ رقم اگر آئندہ سال رمضان تک سائل کے پاس موجود رہی ،تو ا س پر بھی ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃ دینا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه الخ (2/267)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد شاہد عظمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 41600کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات