السلام علیکم !
مفتی صاحب اگر کوئی پلاٹ خریدا گیا ہو ایک قیمت پر ،مثلاً دو ہزار روپے پر فٹ ، کاروبار کی نیت سے مکمل رقم کافی بڑی ہو اور خریدار پہلے سے ہی صاحبِ نصاب ہو ، اب سوال یہ ہے کہ سال گزرنے کے بعد اس پلاٹ کی اصل قیمت پر پر زکوۃ ہو گی، جس پر پہلے خریدا گیا ہے، یا اب جو اس کی اند از اً مارکیٹ میں قیمت ہے ؟ اندازاً قیمت متعین کرنے والی بات کچھ فکس نہیں ہے ، اس سال کے اندر کسی نے یہ خریدنے کی پیشکش پچیس سو روپے پر فٹ کی ، لیکن بات نہیں بنی، اب اس کی زکوۃ کیسے ادا کی جائے گی ؟ کیا صرف اصل قیمت پر یا اب اندازے پر ؟ کیا یہ صحیح ہے کہ اس دفعہ اصل قیمت پر زکوۃ دی جائے، اور جب پلاٹ بک جائے ،تو جتنا نفع باقی وصول ہو ا ہو اسی پر زکوۃ بعد میں دی جائے ؟مثال کے طور پر دو سال کے بعد بک جائے، تو اصل قیمت کی زکوۃ دو سالوں میں ادا ہو چکی ہے ، اور جو کمایا گیا ہے، اس پر دو سالوں کی زکوۃ کی ادا کی جائے، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
شخص مذکور نے جو پلاٹ تجارت کی نیت سے خریدا ہے، زکوۃ کی تاریخ پر غالب اندازے کے مطابق اس کی جو قیمت ہو گی ، اس حساب سے مذکور شخص کے ذمہ اس پلاٹ کی زکوۃ لازم ہو گی، قیمت خرید کے حساب سے زکوۃ ادا کرنا درست نہیں، البتہ اگر قیمت خرید کے حساب سے پلاٹ کی قیمت ادا کی گئی، اور پلاٹ فروخت کرنے کے بعد اس میں جو منافع ہوا، اس میں سے بقیہ زکوٰۃ ادا کی گئی، تو اس کی بھی گنجائش ہے، مگر بلا کسی عذر کے زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنا درست نہیں، اس لئے بر وقت زکوۃ کی ادائیگی کرنی چاہیئے ۔
كما في بدائع الصنائع فيعتبر قيمتها يوم الاداء ، والصحيح ان هذا مذهب أصحابنا اھ (۲ / ۲۲)-
وفي الدر المختار (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كا لله كزكاة اھ (٢ / ٢٦٠) -
وفی الفتاوى الهندية : الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق و الذهب كذا في الهداية ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القیمة عند حولان بعد أن یکون قیمتھا فی ابتداء الحول مائتی درھم من الدراھم اھ (۱/ ۱۷۹) -