1.کیا میں ہر ماہ تنخواہ ملنے پر زکوۃ ادا کر سکتا ہوں؟
2. زکوۃ دیتے وقت اس کی نیت ضروری ہے؟
3. ہر مہینے بچت بھی کرتا ہوں تو کیا سال کے آخر میں جو جمع شدہ رقم ہے اس پہ بھی زکوۃ ادا کرنی چاہیئے ؟ جبکہ میں ہر ماہ زکوۃ ادا کرتا ہوں۔
4. اگر ہر ماہ زکوۃ نہیں دی جاتی تو زکوۃ کس وقت دینی چاہیئے ؟
5. اگر میں ہر ماہ زکوٰۃ ادا کرتا رہوں تو کیا سال کے آخر میں جو بھی رقم میرے پاس ہے اس پر زکوۃ دینی ہو گی یا نہیں ؟
6. میری بیوی کے پاس تقریباً دو 2 سے تین 3 تولہ سونا سیٹ ہے، جن میں دو تولہ ان کے والدین نے دیا تھا، اور ایک تولہ میں نے گفٹ کیا تھا، اس پر زکوۃ کا کیا طریقہ ہو گا ؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً
سائل اگر صاحب نصاب ( ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کا مالک) ہو اور وہ ہر ماہ زکوۃ کی نیت سے تھوڑی تھوڑی رقم دیتا ہے تو یہ پیشگی زکوٰۃشمار ہوگی، اور پھر سال کے آخر میں زکوٰۃ کا حساب لگا کر دیکھ لیا جائے کہ کتنی رقم بطور زکوة ادا ہو گئی ہے اور کتنی باقی رہ گئی ہے ، اگر کچھ رقم باقی ہو تو فقط بقیہ رقم ہی کی زکوٰۃ ادا کی جائے ،تا ہم اگر زیادہ رقم دے چکے ہوں، تو اضافی رقم آئندہ سال کی زکوۃ میں شمار ہو گی۔ جبکہ سائل کی بیوی کے پاس جو سونا ہے وہ چونکہ بقدر نصاب نہیں، اس لیے اس پر زکوۃ بھی واجب نہیں البتہ اس سونے کے ساتھ کچھ چاندی، نقدی وغیرہ بھی سائل کی بیوی کے پاس سال بھر رہی ہو تو اس پر بھی زکوٰۃ لازم ہوگی۔
كما في الفتاوى الهندية: ويجوز تعجيل الزكاة بعد ملك النصاب ولا يجوز قبله كذا في الخلاصة اھ (1/ 176)
وفيها ايضاً: ومنها كون المال نصابا فلا تجب في أقل منه هكذا في العيني شرح الكنز اھ (1/ 172)
وفيها ايضاً: وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز (إلی قوله) ولو ضم أحد النصابين إلى الأخرى حتى يؤدي كله من الذهب أو من الفضة لا بأس به لكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء قدرا ورواجا وإلا فيؤدي من كل واحد ربع عشره كذا في محيط السرخسي اھ (1/ 179)