زکوۃ و نصاب زکوۃ

دس سالہ پرانا پلاٹ فروخت کرنے کے بعد حاصل شدہ رقم پر زکوٰۃ لازم ہے؟

فتوی نمبر :
44929
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

دس سالہ پرانا پلاٹ فروخت کرنے کے بعد حاصل شدہ رقم پر زکوٰۃ لازم ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب ایک (صاحب نصاب) سرکاری ملازم کو حکومت کے طرف سے 10 سال پہلے ایک پلاٹ ملا تھا، جو اس نے گھر بنانے کے غرض سے ابھی تک رکھا تھا، لیکن ابھی اس نے بھیج دیا، اس سے جو پیسہ آیا وہ چار جگہوں میں لگایا ، پرانے کاروبار کے ساتھ شریک کیا، نیا پلاٹ کاروبار کی نیت سے لیا، نیا کاروبار شروع کیا، گھر بنانے کے لیے کسی کے پاس امانت کے طور پر رکھا ، اب میرا سوال یہ ہے کہ اس بندے پر زکوٰۃ کب اور کون سے پیسوں سے ادا کرنا ہوگا؟ یاد رہے کہ یہ بندہ پہلے سے صاحب نصاب ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مذکور شخص جب پہلے ہی صاحب نصاب تھا، تو اس کی ادائیگی زکوٰۃ کی تاریخ آنے پر مذکور چاروں مدات میں لگی ہوئی رقم اور حاصل شدہ منافع کو سابقہ نصاب کے ساتھ ملا کر سب کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض فتصير للتجارة بلا نية صريحا، الخ (2/267)۔
و فی الھندیة: (ومنها كون النصاب ناميا) حقيقة بالتوالد والتناسل والتجارة أو تقديرا بأن يتمكن من الاستنماء بكون المال في يده أو في يد نائبه وينقسم كل واحد منهما إلى قسمين خلقي، وفعلي هكذا في التبيين الخ (1/174)۔
و فی بدائع الصنائع: (ومنها) كون المال ناميا؛ لأن معنى الزكاة وهو النماء لا يحصل إلا من المال النامي ولسنا نعني به حقيقة النماء؛ لأن ذلك غير معتبر وإنما نعني به كون المال معدا للاستنماء بالتجارة أو بالإسامة؛ لأن الإسامة سبب لحصول الدر والنسل والسمن، والتجارة سبب لحصول الربح فيقام السبب مقام المسبب، وتعلق الحكم به كالسفر مع المشقة والنكاح مع الوطء والنوم مع الحدث، ونحو ذلك، وإن شئت قلت: ومنها كون المال فاضلا عن الحاجة الأصلية؛ لأن به يتحقق الغنى ومعنى النعمة وهو التنعم وبه يحصل الأداء عن طيب النفس إذ المال المحتاج إليه حاجة أصلية لا يكون صاحبه غنيا عنه ولا يكون نعمة إذ التنعم لا يحصل بالقدر المحتاج إليه حاجة أصلية؛ لأنه من ضرورات حاجة البقاء وقوام البدن فكان شكره شكر نعمة البدن.الخ (2/11)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رضوان عبد الحلیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 44929کی تصدیق کریں
0     125
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات