زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ کے متعلق مسائل

فتوی نمبر :
45089
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ کے متعلق مسائل

1.کیا میں ہر ماہ تنخواہ ملنے پر زکوۃ ادا کر سکتا ہوں؟
2. زکوۃ دیتے وقت اس کی نیت ضروری ہے؟
3. ہر ماہ جمع بھی کرتا ہوں تو کیا سال کے آخر میں جو جمع شدہ رقم ہے اس پہ بھی زکوۃ ادا کرنی چاہیئے ؟ جبکہ میں ہر ماہ زکوۃ ادا کرتا ہوں۔
4. اگر ہر ماہ زکوۃ نہیں دی جاتی تو زکوۃ کس وقت دینی چاہئے؟
5. اگر میں ہر ماہ زکوٰۃ ادا کرتا رہوں تو کیا سال کے آخر میں جو بھی رقم میرے پاس ہے اس پر زکوۃ دینی ہو گی یا نہیں ؟
6. میری بیوی کے پاس تقریباً دو 2 سے تین 3 تولہ سونا سیٹ ہے، جن میں دو تولہ ان کے والدین نے دیا تھا، اور ایک تولہ میں نے گفٹ کیا تھا، اس پر زکوۃ کا کیا طریقہ ہو گا ؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جس شخص کے پاس جس دن نصاب کے بقدر سونا چاندی، نقدی یا مال تجارت یا ان کا مجموعہ آجائے، اس دن سے وہ صاحبِ نصاب شمار ہوتا ہے، جس کے بعد قمری سال پورا ہونے پر اس کے ذمہ ان اشیاء کی زکوۃ لازم ہوتی ہے، لیکن اگر کوئی شخص صاحبِ نصاب بننے کے بعد ہر ماہ زکوة کی نیت سے تھوڑی تھوڑی زکوٰۃدیتا رہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز ہے، اور پھر سال پورا ہونے پر حساب کتاب کرنے کے بعد اگر معلوم ہو جائے کہ زکوۃ کی ادائیگی میں کچھ کمی رہ گئی ہے تو اس کمی کو پورا کر نالازم ہوگا، چنانچہ سائل کو بھی اس طرح کرنا چاہئیے ، جبکہ سائل کی بیوی کے پاس اس سونے کے علاوہ اگر کوئی چاندی یا نقدی بھی موجود ہو جن کی مجموعی مالیت چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی) کی مالیت کو پہنچتی ہو، تو ایسی صورت میں سال پورا ہونے پر اس سونے جو مارکیٹ ریٹ ہوگا اس کے مطابق ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ دینا لازم ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الهداية شرح البداية: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول أما الوجوب فلقوله تعالى { وآتوا الزكاة } ولقوله صلى الله عليه وسلم أدوا زكاة أموالكم وعليه إجماع الأمة والمراد بالواجب الفرض لأنه لا شبهة فيه اھ (1/ 96)
و في الدر المختار: (والمستفاد) ولو بهبة أو إرث (وسط الحول يضم إلى نصاب من جنسه) فيزكيه بحول الأصل، ولو أدى زكاة نقده ثم اشترى به سائمة لا تضم، ولو له نصابان مما لم يضم أحدهما كثمن سائمة مزكاة وألف درهم وورث ألفا ضمت إلى أقربهما حولا وربح كل يضم إلى أصله. (2/ 288)
و في الدر المختار: (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد، ولو كفالة أو مؤجلا، ولو صداق زوجته المؤجل للفراق ونفقة لزمته بقضاء أو رضا، بخلاف دين نذر وكفارة وحج لعدم المطالب اھ (2/ 261)
و في سنن أبي داود: عن علي رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم ببعض أول هذا الحديث، قال: «فإذا كانت لك مائتا درهم، وحال عليها الحول، ففيها خمسة دراهم، وليس عليك شيء - يعني - في الذهب حتى يكون لك عشرون دينارا، فإذا [ص:101] كان لك عشرون دينارا، وحال عليها الحول، ففيها نصف دينار، فما زاد، فبحساب ذلك»، قال: فلا أدري أعلي يقول: فبحساب ذلك، أو رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم، وليس في مال زكاة حتى يحول عليه الحول، إلا أن جريرا، قال ابن وهب «يزيد في الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم، ليس في مال زكاة حتى يحول عليه الحول» اھ (2/ 100)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 45089کی تصدیق کریں
0     46
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات