مفتی صاحب! وراثتی مال پر زکوۃ کا حکم شرعی کیا ہے، جبکہ مال ابھی وارثوں میں تقسیم نہ ہوا ہو؟
کسی شخص کی وفات کے بعد اگر اس کے ترکہ میں قابل زکوۃ اشیاء موجود ہوں، اور مرحوم کے تمام ورثاء باہمی رضامندی سے وراثت کو آپس میں تقسیم کرنے کے بجائے ورثاء میں سے کسی ایک کو ( مرحوم کی بیوہ، یا کوئی بیٹا ) امین اور نگران مقرر کر کے مشترکہ ملکیت کو باقی رکھیں، تو ایسی صورت میں اگر قابل زکوۃ اشیاء کو آپس میں تقسیم کی صورت میں ہر وارث کے حق میں بقدر نصاب حصہ بنتا ہو، اور وہ بالغ بھی ہو ، تو ایسی صورت میں تمام بالغ ورثاء کے حصوں سے مجموعی یا ہر ایک کے ذمہ انفرادی طور پر اپنے حصے کی زکوۃ لازم ہو گی۔