زکوۃ و نصاب زکوۃ

باہمی رضامندی سے ترکہ کی تقسیم مؤخر کردی جائے ، تو وارث پر اپنے حصے کی زکوۃ لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
45127
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

باہمی رضامندی سے ترکہ کی تقسیم مؤخر کردی جائے ، تو وارث پر اپنے حصے کی زکوۃ لازم ہوگی؟

مفتی صاحب! وراثتی مال پر زکوۃ کا حکم شرعی کیا ہے، جبکہ مال ابھی وارثوں میں تقسیم نہ ہوا ہو؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی شخص کی وفات کے بعد اگر اس کے ترکہ میں قابل زکوۃ اشیاء موجود ہوں، اور مرحوم کے تمام ورثاء باہمی رضامندی سے وراثت کو آپس میں تقسیم کرنے کے بجائے ورثاء میں سے کسی ایک کو ( مرحوم کی بیوہ، یا کوئی بیٹا ) امین اور نگران مقرر کر کے مشترکہ ملکیت کو باقی رکھیں، تو ایسی صورت میں اگر قابل زکوۃ اشیاء کو آپس میں تقسیم کی صورت میں ہر وارث کے حق میں بقدر نصاب حصہ بنتا ہو، اور وہ بالغ بھی ہو ، تو ایسی صورت میں تمام بالغ ورثاء کے حصوں سے مجموعی یا ہر ایک کے ذمہ انفرادی طور پر اپنے حصے کی زکوۃ لازم ہو گی۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 45127کی تصدیق کریں
0     80
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات