السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا نام زوجہ عبدالصمد ہے، میری شادی سن 2011 میں ہوئی، اس وقت میرے پاس 5 تولہ سے کچھ کم سونا تھا، اور ایک چاندی کا سیٹ تھا، مجھے یہ بتایا گیا کہ آپ ایسا سمجھیں کہ یہ سیٹ آپ کی ساس کا ہے، اور آپ پہن رہی ہیں، تو اس طرح زکوٰۃ نہیں بنے گی، لیکن اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح سے حیلہ کرنا جائز نہیں ہے، اس میں ان گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتی ہوں، اس کے لیے میرے چند سوالات ہیں، براہ مہربانی جواب دے دیجئے،، میرے پاس اب سونا پہلے سے کم ہے ، تقریباً 3 تولہ بک چکا ہے، شوہر کے کاروبار کے سلسلے میں ، گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے سونے کی موجودہ قیمت دیکھیں گے، یا جس سال کی زکوٰۃ اسی سال کی قیمت دیکھنا ہوگی؟ (2) کیا سال کی ترتیب رکھنا ضروری ہے جیسے 2014،2013/2012 ؟ (3) قرض اتارنے کے لیے کمیٹی بھی ساتھ ڈالی ہوئی ہے، تو اس دوران زکوٰۃ ادا کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں، (4) جو سونا بھیچا اس کا سال متعین معلوم نہیں اس کے لیے کیسے حساب لگایا جائے۔
سائلہ کے پاس چاندنی کا جو سیٹ موجود تھا، تو مذکور سیٹ اپنی ساس کو باقاعدہ مالکانہ طور پر دیئے بغیر فقط یہ سمجھ لینے سے کہ ساس کا ہے، سائلہ کی ملکیت سے نہیں نکلا ، چنانچہ اگر مذکور سونے چاندی کی مجموعی مالیت نصاب کو پہنچتی تھی، تو سائلہ کے ذمے ہر سال زکوٰۃ ادائیگی لازم تھی، لیکن سائلہ نے چونکہ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی اس لیے اب سائلہ کے ذمے سونے اور چاندی کی موجودہ ریٹ کے مطابق زکوٰہ لازم ہوگی۔
جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ مذکور سونا اور چاندی کی موجودہ مالیت معلوم کر کے اس میں سے قرضہ جات کی ادائیگی کے بعد ڈھائی فیصد کے حساب سے پہلے سال کی زکوٰۃ ادا کرے، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس سے اگلے سال کی زکوٰۃ ادا کرے، اوراسی طرح دیگر سالوں کی زکوٰۃ ادا کر ے، یہاں تک کہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا ہوجائے، جبکہ سائلہ نے جو سونا فروخت کیا تھا، اگر اس کے وقت فروخت کا صحیح علم نہ ہو، تو غالب گمان کے مطابق اس کی فروختگی کا جو وقت ہوجائے ، اس کے بعد سے سائلہ کے ذمے اس سونے کی زکوٰۃ لازم ہوگی۔
کما فی بدائع الصنائع: إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة. وعند زفر يؤدي زكاة سنتين، وكذا هذا في مال التجارة، وكذا في السوائم الخ (2/7)۔