گزارش یہ ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں زکوٰۃ کے بارے میں آپ حضرات سے ایک مسئلہ معلوم کرنا چاہتا ہوں میرے ایک رشتے دار ہیں ان کے ساتھ ایک حادثہ پیش آگیا ہے ان کے گھر جو کہ ایک فلیٹ کی صورت میں ہے جو کہ پگڑی کا ہے اس کی چھت ٹوٹ کر پیچھے فلیٹ پر گر گئی ہے اب حالات یہ ہیں کہ وہ اور نیچے فلیٹ والے دونوں اس کے اندر نہیں رِہ سکتے ہیں لہٰذا یہ دونوں اس کو مل کر بنانا چاہتے ہیں میرے رشتے دار کی آمدنی کے لحاظ سے یہ حالات ہیں کہ ان کے پانچ بچے ہیں ان کو اور ان کی اہلیہ کو ملاکر کل سات افراد ہیں اور آمدنی گھر خرچہ کے لحاظ سے بہت کم ہے آیا اس صورت میں کیا ہم ان کو مکان کی چھت بنانے کیلئے زکوٰۃ کی رقم دے سکتے ہیں یا نہیں؟ اور زکوٰۃ کی رقم دیتے ہوئے ان کو بتانا ضروری ہے کہ نہیں یا اپنی نیت کرنا کافی ہے؟
سائل کے رشتہ دار کے پاس سساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر سونا، چاندی، مالِ تجارت اور ضرورت سے زائد گھریلو سازو سامان موجود نہ ہو تو وہ مستحقِ زکوٰۃ ہے اس کو زکوٰۃ کی رقم دینا درست ہے پھر چاہے وہ اسے تعمیر میں صرف کرے یا اپنی کسی اور ضرورت میں، جبکہ زکوٰۃ دیتے وقت یہ بتانا بھی ضروری نہیں کہ یہ رقم زکوٰۃ کی ہے بلکہ کسی بھی نام مثلاً ہدیہ گفٹ، عیدی کے نام سے بھی دے سکتے ہیں۔
فی الدر: وشرعًا (تملیک) خرج الاباحۃ فلو اطعم یتیما ناویا الزکاة لا یجزیہ الا اذا دفع الیہ المطعوم کما لو کساہ بشرط ان یعقل القبض الا اذا حکم علیہ بنفقتھم. الخ (ج۲، ص۲۵۶)
وفی بدائع الصنائع: واما الحقیقة فان الزکاة تملیک المال من الفقیر والمنتفع بھا ھو الفقیر فکانت حق الفقیر والصبا لا یمنع حقوق العباد علی ما بینا ولنا قول النبی ﷺ بنی الاسلام علی خمس. اھـ (ج۲، ص۵) واللہ اعلم