زکوۃ و نصاب زکوۃ

جس شخص نے اپنا گھر کرایہ پر دیا ہو وہ زکوۃ لے سکتا ہے؟

فتوی نمبر :
49163
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

جس شخص نے اپنا گھر کرایہ پر دیا ہو وہ زکوۃ لے سکتا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مسئلہ یہ ہے کہ میرے پاس ایک فلیٹ ہے جو مجھے وراثت میں ملا ہے، جس کی ملکیت تقریباً (2500000) پچیس لاکھ ہے، اور وہ میں نے کرائے پر دیا ہوا ہے، جس کا کرایہ گھر کے خرچوں میں استعمال ہوجاتا ہے، میرا ایک کاروبار ہیں جو ابھی (200000) دو لاکھ قرض لے کر شروع کیا ہے، اور اب تک اس کاروبار سے کمائی شروع نہیں ہوئی ہے، اس کے علاوہ میری ملکیت میں ایک میرے استعما ل کی موٹر سائیکل ہے، اور ایک میرے مرحوم والد کا گھر ہے، میر پور خاص میں جس کی وراثت اب تک تقسیم نہیں ہوئی، اور میں اور تما م گھر والے ہم ایک ساتھ یہاں کراچی میں ایک کرائے کے گھر میں رہتے ہیں، جس کا کرایہ اس ہی والد مرحوم کے گھر کے کرائے سے ادا ہوتا ہے، جس کی ابھی تقسیم نہیں ہوئی ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں زکوٰۃ لے سکتا ہوں، اگر کوئی مجبوری آجائے جیسے ابھی میری والدہ کی طبیعت خراب ہوگئی تھی، تو میں نے ایک مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ لے سکتے ہیں، تو میں نے زکوٰۃ لے لی، اور خرچ بھی کرلی، لیکن اب مجھے یہ زیادہ مناسب محسوس ہوا کہ میں کسی دارالافتاء سے اس بارے میں دریافت کرلوں کی کیا میرا یہ زکوٰۃ لے کراستعمال کرنا صحیح ہے، اور جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو وراثت میں جو فلیٹ ملا ہے، جس کو سائل نے کرایہ پر دیا ہوا ہے، اس میں چونکہ سائل کی رہائش نہیں اور اس کی مالیت نصاب کے مقدار سے زیادہ ہے، لہذا سائل کے لیے زکوٰۃ کی رقم لینا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے، جبکہ سائل نے زکوٰۃ کی رقم لیکر جو خرچ کی ہے، اتنی غریب اور مستحق لوگوں پر صدقہ کرنا چاہیے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 49163کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات