عالم یا مہتمم اکثر دوسرے ذرائعِ آمدن کی وجہ سے کروڑ پتی ہوجاتے ہیں , مدرسہ میں جو کھانا طلباء کیلئے پکتا ہے , وہ صدقہ خیرات ,زکوٰۃ کی رقم سے ہوتا ہے , یہ صاحبِ نصاب عالم استعمال کر سکتے ہیں ؟
واضح ہو کہ اکثرمدارس میں زکوۃ کی جو رقم وصول کی جاتی ہے ، عموماً اسے تملیک کے بعد طلباء کرام کے کھانے پینے اور ادارے کی دیگر ضروریات( جیسے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہیں, تعمیراتی امور) میں استعمال کیاجاتاہے ، اور تملیک کے بعد اس کی حیثیت زکوۃ کی نہیں رہتی ، لہذا جس ادارے میں اموالِ زکوۃ کو براہ راست طلباء کے کھانے پینے کے اخراجات میں استعمال نہ کیا جاتا ہو ، بلکہ تملیک کے بعد ان اخراجات میں خرچ کیا جاتا ہو ، تو اس رقم سے تیارشدہ کھانا غیر مستحقِ زکوۃ لوگ (علماء ، طلباء)بھی استعمال کرسکتے ہیں ، بشرطیکہ ادارے کے مجاز لوگ اس کی اجازت دیتے ہوِں ، تاہم اگرزکوۃ کی رقم براہِ راست طلباء کے کھانے پینے کے اخراجات میں استعمال کی جاتی ہو ، تو ایسی صورت میں مستحقِ زکوۃ لوگوں کے علاوہ دیگر فراد کے لئے اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔