زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم میں تملیک کے بعد , اس میں زکوٰۃ کے احکامات کا جاری نہ ہونا

فتوی نمبر :
51149
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم میں تملیک کے بعد , اس میں زکوٰۃ کے احکامات کا جاری نہ ہونا

عالم یا مہتمم اکثر دوسرے ذرائعِ آمدن کی وجہ سے کروڑ پتی ہوجاتے ہیں , مدرسہ میں جو کھانا طلباء کیلئے پکتا ہے , وہ صدقہ خیرات ,زکوٰۃ کی رقم سے ہوتا ہے , یہ صاحبِ نصاب عالم استعمال کر سکتے ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اکثرمدارس میں زکوۃ کی جو رقم وصول کی جاتی ہے ، عموماً اسے تملیک کے بعد طلباء کرام کے کھانے پینے اور ادارے کی دیگر ضروریات( جیسے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہیں, تعمیراتی امور) میں استعمال کیاجاتاہے ، اور تملیک کے بعد اس کی حیثیت زکوۃ کی نہیں رہتی ، لہذا جس ادارے میں اموالِ زکوۃ کو براہ راست طلباء کے کھانے پینے کے اخراجات میں استعمال نہ کیا جاتا ہو ، بلکہ تملیک کے بعد ان اخراجات میں خرچ کیا جاتا ہو ، تو اس رقم سے تیارشدہ کھانا غیر مستحقِ زکوۃ لوگ (علماء ، طلباء)بھی استعمال کرسکتے ہیں ، بشرطیکہ ادارے کے مجاز لوگ اس کی اجازت دیتے ہوِں ، تاہم اگرزکوۃ کی رقم براہِ راست طلباء کے کھانے پینے کے اخراجات میں استعمال کی جاتی ہو ، تو ایسی صورت میں مستحقِ زکوۃ لوگوں کے علاوہ دیگر فراد کے لئے اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 51149کی تصدیق کریں
0     295
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات