زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض دار کو زکوۃ کی مدمیں قرض معاف کرنا

فتوی نمبر :
51151
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض دار کو زکوۃ کی مدمیں قرض معاف کرنا

السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ مقروض کو زکوٰۃ کی رقم میں سے قرض کی کٹوتی کی جا سکتی ہے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ادائیگی زکوۃ کے لیے مال زکوۃ کو دیگراموال سے الگ کرتے وقت یا کسی مستحق کو دیتے وقت زکوۃ کی نیت کرنا ضروری ہے، ورنہ زکوۃ شرعاادا نہ ہوگی، جبکہ کسی مقروض کو قرض دی ہوئی رقم معاف کرنے کی صورت میں ادائیگی زکوۃ کے لیے مطلوبہ نیت کا تحقق نہیں ہوتا، اس لیے سابقہ قرض کو زکوۃ کی مدمیں معاف کرنے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی، تاہم اگرکوئی مقروض شخص واقعی ضرورت مند ، مستحق زکوۃ غیرسید ہو، اور قرض دینے والا شخص زکوۃ کی مدمیں اس کا تعاون کرناچاہتاہو، تو اس کا بہترطریقہ یہ ہے، کہ مقروض شخص کسی تیسرے شخص سے کچھ رقم ادھارلیکر سابقہ قرض اداکرلے، اورزکوۃ دینے والا شخص اپنا قرض وصول کرنے کے بعد وہ رقم بنیت زکوۃ مذکورشخص کو دوبارہ دیدے، اس طرح کرنے سے ادائیگی زکوۃ بھی درست ہوجائے گی اور مقروض شخص کا قرض بھی ادا ہوجائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الھندیۃ: (171/1)
ولووھب دینہ من فقیر ونوی زکوۃ دین آخرلہ علی رجل آخر اونوی زکوۃ عین لہ ہم یجز کذافی الکافی، واداء العین عنی العین وعن الدین جائز واداء الدین عن العین وعن دین یقبض لایجوز اھ
رد المحتار: (269/2- 270، ط: سعید)
واعلم ان اداء الدین عن الدین والعین عن العین وعن الدین یجوز واداء الدین عن الٔعین ، و عن دین سیقبض لایجوز وحیلۃ الجواز ان یعطی مد یونہ‘ الفقیر زکاتہ ثم یأ خدھا عن دینہ قال فی الشامیۃّ تحت قولہ واعلم …الثانیۃ واداء دین عن دین سیقبض کما تقدم عن البحروھو مالوابرأالفقیر عن بعض النصاب ناویا بہ الا داء عن الباقی ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 51151کی تصدیق کریں
1     2915
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات