جناب زکوٰۃ سال بھر رہنے والی رقم سے ادا کیا جائے گا؟ اور کیا کاروبار میں لگائے رقم پر سے زکوٰۃ دیا جائے گا؟ اکاؤنٹ میں موجود رقم پر سے ایک سال پورا ہونے پر زکوٰۃ دینا ہے؟؟ اور اگر زکوٰۃ سال کے گزرنے کے باوجود نہ دی سکے اور دو تین ماہ اضافی گزر گئے مگر تاحال زکوٰۃ نہیں دیا اور اب اس میں سے کچھ رقم پھر صرف ہوا ہے اور کچھ کاروبار میں لگا ہے.. اب اگر زکوٰۃ ادا کرنا ہو تو باقی ماندہ رقم میں سے ادا کریں یا اس سال کے اختتام پر جو رقم موجود تھا اس میں سے ادا کیا جائے؟
واضح ہو کہ صاحب نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر مال کے مالک) بننے کے بعدہر رقم پر الگ الگ سال گزرناشرط نہیں بلکہ نصاب کے مجموعی مالیت (خواہ وہ رقم کیش کی صورت میں بینک اکاونٹ میں ہو، کاروبار میں انوسٹ کیاگیاہو یا روز مرہ کے کے اخراجات سے زائد رقم گھر میں موجود ہو) پر ہجری سال گزرنے کی صورت میں ان تمام رقوم پر زکوۃ واجب ہوگی، اور اس وقت موجود مجموعی مالیت میں سے ڈھائی فیصد بطورزکوۃ دینا لازم ہوگا۔
البتہ اگرکوئی شخص صاحب نصاب ہونے پر اس پر سال گزرنے کے باوجود زکوۃ ادا نہ کرے، تو اگرچہ بلاوجہ ادائیگی زکوۃ میں تاخیر کرنا جائز نہیں تاہم اس تاخیر کی وجہ سے شرعازکوۃ ساقط نہ ہوگی ، بلکہ بدستو اس کے ذمہ باقی رہیگی، اس لیے گزشتہ سال کے اختتام پر جو رقم موجود تھی، بعد میں اسی حساب سے زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی، اور آئندہ کے لیے سال پورا ہونے پر مقرر وقت پر ادائیگی زکوۃ کا اہتمام کرناچاہیے۔
عن علي عن النبي -صلی اللہ علیہ وسلم- قال: فإذا کانت لک مائتا درہمٍ وحال علیہا الحول ففیہا خمسة دراہم ولیس علیک شيء یعنی في الذہب حتی تکون لک عشرون دینارًا فإذا کانت لک عشرون دینارًا وحال علیہا الحول ففیہا نصف دینارٍ فما زاد فبحساب ذلک․ (ابوداوٴد: ۱/۲۲۱، باب في زکاة السائمة)
وفی الدر المختار: (302/2، ط: دار الفکر)
(وشرط كمال النصاب) ولو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد وفي الانتهاء للوجوب (فلا يضر نقصانه بينهما) فلو هلك كله بطل الحول.
وفی البحر الرائق: (247/2، ط: دار الکتاب الاسلامی)
(قوله ونقصان النصاب في الحول لا يضر إن كمل في طرفيه) ؛ لأنه يشق اعتبار الكمال في أثنائه إما لا بد منه في ابتدائه للانعقاد وتحقيق الغناء، وفي انتهائه للوجوب