زکوۃ و نصاب زکوۃ

دو سالوں کی زکوۃ ادا نہ کی ہو تو اس کا حساب کیسے کریں؟

فتوی نمبر :
51426
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

دو سالوں کی زکوۃ ادا نہ کی ہو تو اس کا حساب کیسے کریں؟

السلام علیکم! میرا مسئلہ جو ہے وہ زکوة کا ہے، اس میں میرے دو سوال ہیں۔ اس میں جو میرا سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ میں نے دو سال سے زکوۃ نہیں دی۔ تو اس کا کیا طریقہ ہو گاپہلے سال جو رقم موجود تھی وہ تقریباً دو لاکھ روپے تھی۔ میں اس لیے رقم ادا نہ کر سکا، کیونکہ میرے پاس رقم موجود نہ تھی پوری اور حالات کا بھی کچھ علم نہیں تھا کہ ضرورت نہ پڑ جائے ۔ اور دوسرے سال میرے پاس جو رقم تھی وہ تقریبا ساڑھے تین لاکھ روپے تھی تو اس پر کتنی زکوۃ لگے گی اور ٹوٹل رقم کتنی ادا کروں ؟۔ اور دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ رقم میں اپنے بھائی کو دے سکتا ہوں جو کہ مجھ سے بڑے ہیں، لیکن حالات ان کے اچھے نہیں ہیں۔ کیوں کہ حال ہی میں انہوں نے شادی کی ہے تو وہ بھی ادھار لے کر ہوئی ہے، پھر ان کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے جو کہ وہ بھی ادھار لے کر ہسپتال کا خرچہ اٹھایا ہے ۔ انہوں نے شادی پر 80 ہزار روپے مجھ سے ادھار لیے ہوئے ہیں ۔ شادی کے بعد ہی ان کی بائیک گھر کے نیچے سے چوری ہو گئی۔ اب ان کا اپنا کاروبار بھی اتنا نہیں کہ وہ اپنے کاروبار سے بائیک خرید سکیں ۔ وہ اپنے روزانہ کے معاملات بھی بڑی مشکل سے چلا رہے ہیں یہاں تک کہ بچی کے دودھ کے ڈبے تک پیسے نہیں ہیں ان کے پاس۔ تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ میں انہیں نے یہ رقم دے دوں ، لیکن اگر میں رقم انہیں بتا کر دوں کہ زکوٰۃ ہے تو ناراض ہو جائیں گے، لیکن اگر کسی اور نام سے دوں گا تو پھر لے لیں گے شاید مجھے کسی نے کہا ہے کہ آپ ایک بائیک لے لو اس رقم سے تو اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟ اس میں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مجھ سے خریدنا چاہتے ہیں جو کہ میرے پاس ہے اب میں انہیں بائیک تو دے سکتا ہوں، لیکن میں کیش میں دے سکتا ہوں، کیونکہ مجھے بھی دوسری لینی ہے، لیکن میں اگر انہیں ادھار پر بھی دوں تو مجھے اس رقم کا پتہ نہیں ہے کہ وہ کب ادا کریں گے؟ کیونکہ وہ پہلے ہی میری طرف سے 80 ہزار روپے کے مقروض ہے پہلے والی رقم کی بھی ترتیب نہیں ہے کہ وہ واپس آئے گی بھی یا نہیں، اس لیے میں چاہتا تھا کہ اب کی بار ان کی مدد کر دوں، لیکن زکوة کی رقم سے ۔ براہ کرم میری راہ نمائی فرمائیں کہ میں اس کو کس طریقے سے انجام دے دوں اور کیا یہ میرا طریقہ کار صحیح ہے ؟میری زکوۃ ادا ہو جائے گی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے گزشتہ سال جو زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں کی، اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوا ہے۔ لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ و استغفار کرے اور جلد از جلد گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے کا اہتمام کرے، جبکہ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سال کے اختتام پر جتنی زکوۃ لازم تھی۔ اتنی رقم منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم کی زکوٰۃ ڈھائی فیصد کے حساب سے ادا کرے ، جبکہ سائل کا بھائی اگر واقعۃً مستحق زکوٰۃ ہو ۔ یعنی اس کی ملکیت میں قرضوں کی ادائیگی کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر مال تجارت، نقدی اور ضرورت سے زائد سامان یا ان سب کا مجموعہ اتنا نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو اس کو زکوٰۃ کی رقم دینا دوہرے اجر کا باعث ہے، جبکہ زکوۃ کی رقم دیتے وقت زکوٰۃ کا نام لینا ضروری نہیں، بلکہ یہ گفٹ کے نام سے بھی زکوٰۃ ادا ہو جائیگی اور سائل کو اسی طرح کرنا چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (وشرط افتراضها عقل وبلوغ وإسلام وحرية) (إلی قوله) (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) (إلی قوله) (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) (إلی قوله) (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) (إلی قوله) (نام ولو تقديرا) اھ (2/ 258)
و في الدر المختار: (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) اھ (2/ 267)
و في الدر المختار: (وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) (إلی قوقوله) (أو مقارنة (وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) اھ (2/ 268)
و في الدر المختار: (وقيل فوري) أي واجب على الفور (وعليه الفتوى) كما في شرح الوهبانية (فيأثم بتأخيرها) بلا عذر اھ (2/ 271)
و في المبسوط للسرخسي: وكان الفقيه أبو جعفر رحمه الله تعالى يقول أداء القيمة أفضل لأنه أقرب إلى منفعة الفقير فإنه يشتري به للحال ما يحتاج إليه اھ (3/ 195)
و في الفتاوى الهندية: ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلا عن المبتغى والقنية اھ (1/ 171)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله: وإلى من بينهما ولاد) أي بينه وبين المدفوع إليه؛ (إلی قوله) وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة. و في الظهيرية: ويبدأ في الصدقات بالأقارب، ثم الموالي ثم الجيران اھ (2/ 346)
و في الفتاوى الهندية: لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي اھ (1/ 189)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): قال في العناية: ولا يجوز دفع الزكاة إلى من ملك نصابا سواء كان من النقود أو السوائم أو العروض اهـ (2/ 348)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 51426کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات