میری ساس صاحبہ کہتی ہے کہ صرف ساڑھے سات تولے سونے اور ساڑھے باون تولے چاندی پر زکوٰۃ ہے،اور گر کسی کے پاس دو،تین یا ساڑھے سات تولے سے کم سونا ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم نہیں ،آپ سے جواب مطلوب ہے ۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ وجوب زکوۃ کے لیے سونا اور چاندی دونوں کے نصاب متعین اور مقررہے، سونا کا نصاب ساڑھے سات تولہ اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے، لیکن وجوب زکوۃ کے لیے ساڑھے سات تولہ سونا کااعتبار اس وقت ہوگا، جب کسی کے پاس صرف اور صرف سونا ہو، اس کے علاوہ چاندی، کیش رقم یا سامان تجارت موجود نہ ہو، لیکن اگر کسی کے پاس سونا ، چاندی، کیش رقم یا سامان تجارت میں سےکچھ نہ کچھ موجود ہوں یا کسی کے پاس ایک دو تولہ سونا اور کچھ کیش رقم موجود ہو، اور ان سب کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی تک پہنچ جائے، تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی،اس لیے سائلہ کی ساس کایہ کہنا کہ سونے پر زکوۃ واجب ہونے کے لیے ہرصورت میں اس کا ساڑھے سات تولہ کے بقدر ہونا ضروری ہے، قطعاغلط اور احکام شرعی سے ناواقفیت پر مبنی قول ہے۔