زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیوی اپنے مال و زیورات کی زکوۃ ادا نہ کرے، تو کیا شوہر پر اس کی ادائیگی لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
59245
| تاریخ :
2000-02-20
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیوی اپنے مال و زیورات کی زکوۃ ادا نہ کرے، تو کیا شوہر پر اس کی ادائیگی لازم ہوگی؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
اگر میری بیوی کے پاس ۱۰۰ روپیہ یا جو سونا چاندی اس کے پاس ہے، ان پر سال گزر جائے، تو زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی یا نہیں؟ اور اگر وہ ادا نہ کرے تو شوہر ذمہ دار ہوگا یا صرف بیوی پر اس کا وبال ہوگا؟ اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا مہینہ کون سا ہے؟ کیونکہ لوگ عام طور پر رمضان کے مہینے میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں؟ وضاحت کریں۔ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی بیوی کے پاس سونا، چاندی اور نقد رقم میں سے ہر ایک نصابِ زکوٰۃ کے برابر ہو ،یا یہ سب اشیاء ملاکر ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا کی قیمت کو پہنچتا ہو، تو وہ صاحبِ نصاب ہے، اور سال گزرنے کے بعد ان کی زکوٰۃ ادا کرنا اسی شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے، جس کی ملکیت میں یہ نصاب ہو، خواہ مرد ہو یا عورت۔
نیز نصاب کا مالک ہونے کے بعد سے سال گزرنا شرط ہے ،چاہے وہ رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی دوسرا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی تنویر الابصار: وسببه أی سبب افتراضہا ملک نصاب حولّی تام فارغ عن دین له مطالب من جهة العباد وفارغ عن حاجته الأصلیةاھ (ج۲،ص۲۶۲)واﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59245کی تصدیق کریں
0     692
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات