زکوۃ و نصاب زکوۃ

قسطوں پر خریدے ہوئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
59647
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

قسطوں پر خریدے ہوئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم

مجھے زکوٰۃکے بارے میں پوچھنا تھا، میری آمدنی گزشتہ تقریبا ساڑھے چار سال سے پچاس ہزار سے شروع ہو کے ایک لاکھ رہی ہے، میرے بڑے بھائی نے جو کہ سعودیہ عرب میں ہوتے ہیں، انہوں نے اپنے نام سےپلاٹ لیا، ایک قسطوں پر، تو ساتھ میں میرا بھی لے لیا، کچھ قسطیں خود اداء کیں ،پھر اس کے بعد میں قسطیں بھرتا رہا، اس کی 2019 میں قسطیں پوری ہوگیئں اور رجسٹری بھی ہوگئی، اس وقت کوئی خاص ارادہ نہیں تھا یا شاید یہ کہ پیسے محفوظ ہو رہے ہیں، یہ سوچ کی قسطیں بھرتا رہا، مجھے معلوم کرنا ہے کہ مجھے اس پر زکوٰۃ دینی پڑے گی یا نہیں؟ میرا پلان پہلے تو کچھ کلیئر نہیں تھا لیکن 2 سال سے یہ ہے کہ اس کو بیچ کر کہیں لگاؤنگا انویسٹمنٹ یا اپنے گھر کے لیے اگر زکوٰۃ دینی پڑھے گی تو کب سے اور کس طرح حساب کرنا ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکورہ پلاٹ جو سائل کے بھائی کی معاونت سے سائل نے خریدا ہے، اس کے خریدتے وقت چونکہ اس میں تجارت کی نیت نہیں تھی اس لئے اس پلاٹ پر شرعا زکوٰۃلازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: وشرط مقارنتها لعقد التجارة وهو كسب المال بالمال بعقد شراء أو إجارة أو استقراض. ولو نوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه اھ (2/ 274)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حشمت علی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 59647کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات