زکوۃ و نصاب زکوۃ

صاحبِ نصاب نے ادھار پر کوئی چیز خرید لی ،تو زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
60459
| تاریخ :
1999-10-10
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

صاحبِ نصاب نے ادھار پر کوئی چیز خرید لی ،تو زکوۃ کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ !
(۱) میرے پاس آٹھ (۸) رمضان ۱۹۹۸؁ء کو (۶۳۳۰۰) روپے موجود تھے جبکہ اٹھارہ (۱۸) تولہ سونا بھی ہے، ہم نے تین لاکھ روپے کی ایک کلینک خریدی جس کی قیمت میں سے پچاس ہزار روپے ادا کردئیے گئے ہیں اور ڈھائی لاکھ ادا کرنے باقی ہیں، تو اس صورت میں کیا زیورات کی طرف سے ادائیگی زکوٰۃ لازم ہے یا نہیں؟
(۲) مدرسہ کے قاری صاحب کے حالات معلوم نہیں کہ وہ مستحقِ زکوٰۃ بھی ہیں یا نہیں اور ان سے پوچھنا مناسب بھی نہیں سمجھتے ، کیا اس صورت میں اُنہیں زکوٰۃ کی رقم سے دینا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے صاحبِ نصاب ہونے کے بعد اور کلینک خریدنے سے پہلے سال پورا گزر چکا تھا تب تو اس سال کی زکوٰۃ نکالنا آپ پر لازم ہے۔
البتہ مذکور زیورات اگر سائلہ کی ملکیت ہوں اور کلینک خاوند نے خریدی ہو اور بقیہ قرض بھی خاوند پر ہی لازم ہو ، تو اس صورت میں ان زیورات کی طرف سے زکوٰۃ کی ادائیگی بہر حال سائلہ پر ہی لازم ہوگی۔
(۲) اگر اپنے طور پر تحقیق کے بعد غالب گمان ہوجائے کہ وہ مستحقِ زکوٰۃ ہیں ،تو انہیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: و سببہ ملک نصاب حولی تام فارغ عن دین لہ مطالب من جہۃ العباد الخ(ج۲، ص۲۵۹)۔
کما فی رد المحتار: و دفع بتحرٍ لمن یظنہ مصرفا، حتی لو دفع بلا تحر لم یجز ان اخطأ، و اعلم ان المرفوع الیہ لو کان جالسا فی صف الفقراء او کان علیہ زیّہم او سألہ فاعطاہ کانت ہذہ الاسباب بمنزلۃ التحری حتی لو ظہر غناہ لم یعد(ج۲، ص۳۵۲، ۳۵۳)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60459کی تصدیق کریں
1     979
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات