زکوۃ و نصاب زکوۃ

بھائی کو زکوٰۃ کی رقم دینا

فتوی نمبر :
60463
| تاریخ :
1998-10-10
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بھائی کو زکوٰۃ کی رقم دینا

صورتِ مسئولہ یہ ہے کہ زید کے پاس نقد رقم چالیس ہزار روپے ہے تو وہ اس میں سے زکوٰۃ دینا چاہتا ہے اب معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا اس میں زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ نصابِ زکوٰۃ ساڑھے سات تولہ سونا ہونا چاہئے یا ساڑھے باون تولہ چاندی، آج کل کے حساب سے سونے کی اور چاندی کی قیمت اس سے زیادہ ہے۔
(۲) ایک آدمی زکوٰۃ دیتا ہے اپنے بھائی کو اور بھائی اس کا ، ایک جگہ اس کے ساتھ رہتا ہے صرف فائدہ و نقصان میں علیحدہ ہے یعنی جو رقم گھر کے معاملہ میں خرچ ہوجائے تو اس کو آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں اپنے اپنے جیب سے، تو آیا اس بھائی کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) آج کل کے اعتبار سے چالیس ہزار روپے سونے اور چاندی دونوں کے نصاب سے زائد ہیں لہٰذا سائل کو چاہئے کہ نصاب پر سال گزرنے کے بعد اس رقم کا چالیسواں حصہ بطور زکوٰۃ ادا کرے۔
(۲) اگر مذکور بھائی واقعۃً مستحق ہو تو بھائی کو بھی زکوٰۃ دینا جائز اور درست ہے۔ واﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60463کی تصدیق کریں
0     791
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات