کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ ایک دیندار شخص اپنے لئے مکان خریدنا چاہتا ہے اور پیسے کم ہونے کی وجہ سے قرض مانگتا ہے اور ادائیگی کی (واپسی) کی مدت محدود آمدنی کی وجہ سے طے بھی نہیں کرسکتا، کیا ایسے حالات میں اس کی مدد کرنے کیلئے زکوٰۃ کی رقم میں سے اس کو ادا کرسکتے ہیں؟ اور کیا اس شخص کو جس مد سے رقم دی جارہی ہے، اطلاع دینا ضروری ہے؟
نوٹ: اس شخص کی آمدنی تقریباً پچیس سو (2500) روپے ہے جبکہ خرچ کی اوسط مقدار دوہزار روپے (2000) ہے۔
جس شخص کے پاس سونا یا چاندی یا اس کے برابر مالِ تجارت یا نقد رقم یا ان سب کا مجموعہ بقدرِ نصاب ہو ، تو وہ زکوٰۃ یا دیگر صدقاتِ واجبہ لینے کا حقدار نہیں اور اگر اتنی مقدار نہ ہو تو ایسے شخص کی زکوٰۃ کے ذریعے مدد کی جاسکتی ہے اور اسے یہ بتانا بھی ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے۔
کما فی البحر : یجوز دفع الزکوٰۃ إلی من یملک مادون النصاب أو قدر نصاب غیر نام و ہو مستغرق فی الحاجۃ۔(ج۲،ص۲۴۰)۔