کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ ایک ساتھی ایک مکان میں رہتا ہے جو اس کی ضرورت کے مطابق ہے ، ایک کمرہ میں اس کے تین بچے ہیں، اس کی آمدنی اس کی ضرورت کے مطابق ہے یعنی جتنی تنخواہ ہے اتنا خرچہ ہے ، اب اس کے سسرال والے یہ چاہتے ہیں کہ یہ مکان بیچ کر جو کہ زکوٰۃ سے لے لیا گیا ہے، جس کی قیمت اندازاً 150,000 روپے ہے اس سے بڑا مکان جو تین کمروں میں مشتمل ہے جس کی قیمت 3,65,000 روپے ہے، جو ان کے سسرال کے سامنے ہے، دلایا جائے اور وہ بھی زکوٰۃ کی رقم سے، وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ہے کہ چند سال پہلے ایکسیڈنٹ میں ان کے دماغ پر چوٹ آگئی تھی، جس کی وجہ سے کبھی کبھار اس کو دورے پڑتے ہیں، سسرال والوں کی چاہت یہ ہے کہ ہماری بہن اور ہمارا داماد ہمارے سامنے آکر رہیں تاکہ ان کی زیرنگرانی ہوسکے، لہٰذا یہ میاں بیوی زکوٰۃ کے مستحق ہیں یا نہیں؟ جبکہ ان کے گھر میں ٹی وی موجود ہے، پوچھنا یہ ہے کہ یہ مکان بیچ کر تقریباً 1,50,000 روپے آئیں گے، 3,65,000 کا مکان خریدنا ہے، جس میں 2,15000 کم ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ زکوٰۃ کی رقم جمع کرکے اس کو خریدا جائے؟ اگر مستحق ہے اور طریقے سے زکوٰۃ دی جائے؟ برائے مہربانی تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور زکوٰۃ کی رقم لینے کا حقدار نہیں، نیز ایسے شخص کو دینے سے زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ،اپنے مصرف میں خرچ نہ ہونے کی وجہ سے ادا بھی نہیں ہوگی، لہٰذا اس سے احتراز ضروری ہے، اس لئے کہ زکوٰۃ یا دیگر صدقاتِ واجبہ کی ادائیگی کا تعلق لوگوں کی آئندہ پیش آنے والی ضروریات کے ساتھ ہرگز نہیں بلکہ فی الحال مستحق اور حقدار ہونے کے ساتھ ہے۔
وفی الدر: مصرف الزکاۃ و العشر (ہو فقیر و ہو من لہ ادنی شیء) و مسکین من لا شئی لہ( الٰی قولہ) و مدیون لا یملک نصابًا فاضلًا عن دینہ۔ اھـ (ج۲، ص۳۴۰۔