السلام علیکم
جناب ایک خاتون کا سوال ہے زکوۃ کے متعلق , سوال یہ ہے کہ وہ خاتون اپنے شوہر سے اسلام کے طریقہ کار سے علیحدگی ہوچکی ہے , وہ ابھی اپنے بھائیوں کے گھر پر رہتی ہے , وہ ایک مدرسے میں پڑھاتی ہیں جہاں سے ان کو ماہانہ دو سے ڈھائی ہزار روپے ملتے ہیں جس سے وہ اپنے ذاتی اخراجات پورے کرتی ہیں , کچھ پیسے انہوں نے جمع کیے تھے اپنا ذاتی مکان لینے کے لئے , ان کا سوال یہ ہے کہ کیا ان پر زکوۃ فرض ہے ؟ کیونکہ کہ ان کی کوئی اور دوسری آمدنی نہیں ہے, اگر وہ زکوۃ کے پیسوں میں سے دیتی رہے گی تو وہ جمع نہیں کرسکتی اپنے مکان کے لئے پیسے , کیوں کہ کل کلاں کو اگر بھائیوں کی شادی ہوتی ہے تو ان کو مکان کی ضرورت پڑے گی , ابھی اسی لئے وہ اپنے مستقبل کے لئے مکان لینا چاہتی ہے, ان کا سوال یہ ہے کہ کیا ان سارے مسائل کو دیکھتے ہوئے ان پر زکوۃ فرض ہے ؟ کیونکہ ان کے پاس دوسرا کوئی وسیلہ نہیں ہے جو انکی مدد کر سکے آپ اس مسئلے میں نظرِ ثانی فرما دیجئے - جزاک اللہ
صورتِ مسئولہ میں مذکور خاتون کے پاس جو رقم جمع ہے،اگر وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت یا اس سے زائد ہو ،اور اس پر سال بھی گزر چکا ہو , تومذکور خاتون پراس کی زکوۃ ادا کرنا لازم ہے،البتہ اسے چاہیئے کہ مذکور رقم سے کوئی زمین رہائش کی نیت سے خرید لے تو اس پر پھر زکوۃ لازم نہ ہوگی -