زکوۃ و نصاب زکوۃ

نقد رقم نہ ہونے کی صورت میں دس تولہ سونے کی زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
62985
| تاریخ :
2023-03-17
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

نقد رقم نہ ہونے کی صورت میں دس تولہ سونے کی زکوۃ کا حکم

کسی کے پاس 10تولہ سونا موجود ہے, مگر نقد رقم نہیں ہے اور ادھار بھی لیا ہوا ہے تو زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ دس تولہ سونے پر اگر سال گزرچکا ہو ،اور قرض کی رقم منہاکرنے کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا بچتا ہو ,تو نقد رقم نہ ہونے کے باوجود اس پر زکوۃ لازم ہوگی ،سونے کا کچھ حصہ فروخت کرکے زکوۃ ادا کی جائے،یا کسی سے قرض لیکر زکوٰۃ کی جائے, پھر اس قرض کی ادائیگی حسبِ وسعت کی جاۓ اور اگر قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد سونا ساڑھے سات تولہ سے کم رہ جائے اور ساتھ میں کچھ معمولی رقم سو پچاس روپے موجود ہوں تو بچے ہوئے سونے کی قیمت لگوائی جائے ،وہ اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس پر اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 62985کی تصدیق کریں
0     851
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات