1. کیا زکوٰۃ زیادہ دے سکتے ہیں ؟ مثال کے طور پر اگر زکوٰۃ بن رہی ہو 20 ہزار اور ہم 30 ہزار دیدیں احتیاط کے طور پر؟
2. جو زکوٰۃ ذمہ میں رہ گئی ہے اس کا حساب کیسے کریں ؟ مثال کے طور پر میرے ذمے 8 سالوں کی زکوٰۃ ہے اور میری زکوٰۃ کی تاریخ بنتی ہے 10 رمضان , تو اب مجھے کیسے پتہ لگے گا کہ 8 سال پہلے 10 رمضان کو میرے پاس کتنا مال تھا؟ کیوںکہ زکوٰۃ تو اس رقم کی دینی ہے نا , جو زکوٰۃ دینے کی تاریخ میں آپ کے پاس موجود ہو۔
3. اگر سال کے درمیان میں مال , نصاب سے کم ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ مثال کے طور پر میری زکوٰۃ کی تاریخ تھی 10 رمضان اور 1 رمضان کو میرے پاس جو مال تھا , اس کی قیمت 30 تولے چاندی رہ گئی یعنی نصاب سے کم ہو گئی تو اب کیا حکم ہے کہ میرے اوپر زکوٰۃ اب فرض نہیں رہی یا فرض ہے ابھی بھی؟
4۔ زکوٰۃ فرض ہے یا واجب؟
5۔ کچھ سالوں کی زکوٰۃ ایڈوانس میں دینا ؟
مثال کے طور پر میں 5 سالوں کی زکوٰۃ ایڈوانس میں دینا چاہوں تو ؟
(1)جی ہاں ! واجب الادا زکوۃ سے بطورِ احتیاط زیادہ رقم دینا مستحسن اور باعثِ اجر ہے ، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں -
(2)پچھلے سالوں میں موجود مال اگر یقینی طور پر یاد نہ ہو تو سوچ بچار کے بعد جو غالب گمان ہو اس کے مطابق گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنے سے زکوۃ ادا ہوجائے گی۔
(3)سال کے ابتداء یا انتہاء میں مال اگر نصاب سے کم ہوجائے اور زکوۃ کی ادائیگی کی تاریخ والے دن مال نصاب کے برابر ہو , تو اس سے زکوۃ پر فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی زکوۃ ساقط ہوتی ہے ،البتہ اگر مال بالکل ختم ہوجائے تو نصاب بھی از سر نو شروع ہوگا اور اس پر سال کا گزرنا بھی لازم ہوگا ،ورنہ نہیں۔
(4)زکوۃ فرض ہے،البتہ اصطلاح شرع میں بعض اوقات فرض کو واجب سے تعبیر کردیا جاتاہے۔
(5)جی ہاں ایڈوانس یعنی آئندہ سالوں کی زکوۃ پیشگی دینے سے بھی زکوۃ ادا ہوجاتی ہے -