زکوۃ و نصاب زکوۃ

ترکہ کے سونے پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
66279
| تاریخ :
2023-07-19
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ترکہ کے سونے پر زکوۃ کا حکم

میرے والد صاحب کی جولائی 2016 میں وفات ہوگئی ،انہوں نے کچھ نقدی سونا وغیرہ پیچھے چھوڑا،سونے کے علاوہ باقی تمام نقدی وغیرہ تمام بہن بھائیوں اور میری والدہ کے درمیان شرعی اعتبار سے تقسیم کیا گیا،میرے والد نے کچھ سونا 2013 میں خریدا اور کچھ 2015 میں جو کہ ابھی تک ہم نے تقسیم نہیں کیا ، اور ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ میرے والد صاحب نے مذکور سونے کی زکوۃ ادا کی تھی یا نہیں ،اب ہم اس کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں ،تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے والد صاحب کی وفات کی تاریخ یعنی 2016 سے لیکر اب 2023 تک مذکور سونے پر زکوۃ ادا کرنی ضروری ہے ؟ اور یہ سونا مشترک فیملی لاکر میں پڑا ہوا ہے۔



الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے والدِ مرحوم نے مذکور سونے کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو ،اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی وصیت بھی نہ کی ہو ، تو ورثاء پر اس سونے کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں، اسی طرح مذکور سونا جب تک بطورِ ترکہ تقسیم ہوکر ہر وارث کے حصے اور قبضہ میں نہ آئے ، اس وقت تک ورثاء پر بھی اس کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: وجملة الكلام في الديون انھا على ثلاث مراتب في قول ابی حنيفة: دين قوي، ودين ضعيف، ودين وسط كذا قال عامة مشايخنا (الیٰ قوله) واما الدين الضعيف فھو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، او بصنعه كما لوصية، او وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض اھ (10/2)۔والله اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66279کی تصدیق کریں
0     1465
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات