میں ایک ملازم ہوں , مہینے کے اخراجات کے بعد اتنی خاص بچت نہیں ہوتی , کوئی اور ذریعۂ آمدن بھی نہیں ہے , صرف بیوی کے کچھ زیورات ہیں ,حکومت زبردستی انکم ٹیکس تنخواہ میس سے کاٹ لیتی ہے اور بدلہ میں کچھ دیتی بھی نہیں , جسکے بعد گذر بسر بمشکل ہوتی ہے۔
ان حالات میں زکات کیسے دی جائے , ان حالات میں کیا کوئی مناسب راہنمائی ہے ۔ جزاک اللّہ
سائل کی بیوی کے پاس سونا اگر بقدرِ نصاب ہو , اور اس پر سال گزر جائے تو اس کی زکوۃ ادا کرنا سائل کی بیوی پر لازم ہے جو بنیادی طور پر اسی سونے میں فرض ہوتی ہے جو پڑا ہوا ہے یعنی اسی سونے میں سے مقدارِ زکوٰۃ سونا نکال کر زکوٰۃ ادا کی جائے, اس لئے سائل کے لئے پریشانی والی کوئی بات ہی نہیں ، لیکن اگر سونا بچانا مقصود ہو اور قیمت میں یکمشت ادائیگی مشکل ہو تو سائل کی بیوی یا اس کی طرف سے خود سائل حساب کی یادداشت رکھتے ہوئے حسبِ استطاعت تھوڑی تھوڑی کرکے بھی زکوۃ ادا کرسکتے ہیں،بصورت دیگر سائل کی بیوی اپنا مذکور سونا اپنی نابغ اولاد کو ہبہ اور گفٹ کردے تو پھر اس پر بچہ کے بالغ ہونے تک زکوۃ لازم نہ ہوگی ،ایسی صورت میں سائل یا اس کی بیوی کے لئے مذکور سونے میں کسی قسم کا تصرف جائز نہیں ہوگا -