زکوۃ و نصاب زکوۃ

ماہانہ آمدنی کے لیے کسی بینک میں انویسٹ کی ہوئی رقم پر زکوٰۃ کا حکم

فتوی نمبر :
66906
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ماہانہ آمدنی کے لیے کسی بینک میں انویسٹ کی ہوئی رقم پر زکوٰۃ کا حکم

ترجمہ:ریٹائرمنٹ کے بعد پراویڈنٹ اور گریجویٹی کا پیسہ میزان بینک میں انوسمینٹ کیا ہے، ماہانہ آمدنی کے لئے، اس کے نفع پر زکوۃ دینی ہوگی مجھے ؟راہنمائی کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پراویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی کی جو رقم سائل نےبینک میں انویسٹ کی ہے،اگر وہ تنہا یا دیگر اموالِ زکوۃ کے ساتھ مل کر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت )کو پہنچتی ہو تو سال گزرنے پر سائل کے ذمہ منافع سمیت اصل رقم پر بھی ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ لازم ہو گی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:(و سببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)الخ،(فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) الخ،(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء اھ(2/268)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66906کی تصدیق کریں
0     936
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات