زکوۃ و نصاب زکوۃ

گریجویٹی فنڈ سے بطورِ قرض لی گئی رقم پر زکوۃ ادا کرنا

فتوی نمبر :
67029
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گریجویٹی فنڈ سے بطورِ قرض لی گئی رقم پر زکوۃ ادا کرنا

شیخ میں گذشتہ 9 سالوں سے ایک پراوئیوٹ کمپنی میں کام کررہا ہوں ،جس کا صرف ایک ملاز م ہے جو کہ میں ہوں ،اس کے علاوہ اس کمپنی کا ایک مالک ہے جو یہاں رہتا ہے،کچھ سال پہلے میں نے اپنی گریجوٹی رقم سے کچھ قرض لیا تھا ،کیا مجھے اس قرض پر زکوۃ ادا کرنے کی ضرورت ہے جو میں نے اینٹا ئٹلڈ اینڈ آف سروس گریجویٹی سے قرض کے طور پر لیا تھا اس کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ میں ابھی بھی اس کمپنی میں کام کررہا ہوں اور میں نے گریجویٹی کا کچھ حصہ لیا ہے،اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ کمپنی اچھی طرح نہیں چل رہی اور بند ہونے کے قریب ہے(خدا نہ کرے)تو میں اپنی سال کی گریجویٹی کی حفاظت کرنا چاہتا تھا اور اسے اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا ضرورت کیلئے،میں نے سنا ہے کہ جب تک گریجویٹی آجر کے پاس رہے اور آپ کے پاس نہ ہو تو آپ پر زکوۃ نہیں ہے،لیکن کیا میرے حالات میں اس حصہ کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی جو میں نے پہلے قرض کے طور پر لیا تھا ؟میں اس بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں،اللہ ہم سب کو ہدایت دے،جزاک اللہ خیرا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جب کوئی ملازم اپنی ملازمت سے ریٹائرڈ ہوتا ہے یا دورانِ سروس اس کی موت واقع ہوجاتی ہے تو ادارہ کی طرف سے اس کو یا اس کی ورثاء کو یکمشت گریجوٹی کے نام سے جو رقم دی جاتی ہے ،عموماً وہ ملازم کی تنخواہ کا حصہ نہیں ہوتی،بلکہ ادارے کی طرف سے اس کی خدمات کے اعتراف میں بطورِ انعام یہ رقم دی جاتی ہے ،چنانچہ یہ رقم جب تک ملازم کو نہ مل جائے ،اس وقت تک ملازم اس رقم کا مالک نہیں بنتا اور نہ ہی اس پر اس کی زکوۃ لازم ہوتی ہے ،چنانچہ سائل کو بھی گریجویٹی کی رقم جب تک مل نہ جائے اس سے قبل اس کی زکوۃ اس پر لازم نہیں ، وصول ہونے کے بعد شرائط پاۓ جانے کی صورت میں اس رقم کی زکوۃ لازم ہوگی،البتہ سائل نے کمپنی سے جو گریجویٹی کی رقم لی ہے ،اگر کمپنی کے قواعد وضوابط کے مطابق سائل اس رقم کا حقدار نہیں بناتھا تو یہ رقم سائل کے ذمہ قرض ہے جس کی ادائیگی اس پر لازم ہے، چنانچہ مذکور قرض منہا کرنے کے بعد اگر بقیہ اموال زکوۃ (سونا،چاندی،مال تجارت اور نقدی) بقدرِ نصاب ہوں تو سائل پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوۃ لازم ہوگی،ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج (الی قولہ) (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل أو الموزون اھ (1/172)۔
وفی الدرالمختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) (الی قولہ) (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) اھ
(2/260)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیمان عظیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67029کی تصدیق کریں
0     755
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات