میں نے اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کے لئے ایک پلاٹ خریدا ہے ،اب میری بیٹی بڑی ہوگئی ہے اور میں یہ پلاٹ بیچنا چاہتا ہوں , یونیورسٹی کی فیس پانچ سال میں ادا کرنی ہے،اب میرا سوال یہ ہے کہ اگلے رمضان کے شروع ہونے پر کچھ رقم میرے پاس ہوگی،کیا اس کی زکوٰۃ دینی ہوگی یا نہیں ؟
سائل اگر صاحبِ نصاب ہو اور رمضان المبارک میں زکوٰۃ کی ادائیگی کرتا آرہا ہو تو ایسی صورت میں مذکور پلاٹ فروخت کرنے کے بعد حاصل شدہ رقم میں سے اگر زکوٰۃ کی تاریخ آنے تک کچھ رقم باقی رہی تو سائل کے ذمہ دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ اس رقم کی زکوٰۃ کی ادائیگی بھی لازم اور ضروری ہوگی ، البتہ اگر زکوٰۃ کی تاریخ آنے سے قبل وہ رقم یونیورسٹی کی فیسوں وغیرہ میں خرچ ہوچکی ہو یا سائل نے اپنی بیٹی کو وہ رقم حوالے کر دی ہو تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ اس رقم کی زکوٰۃ لازم نہ ہوگی۔
کما فی الدر المختار : (و المستفاد) و لو بهبة أو إرث (وسط الحول يضم إلى نصاب من جنسه) فيزكيه بحول الأصل اھ (2/288)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ : و من كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله و زكاه المستفاد من نمائه أولا و بأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك اھ (1/175)۔