زکوۃ و نصاب زکوۃ

صاحبِ نصاب اور پہلے سے زکوٰۃ ادا کنندہ کے پاس تاریخِ زکوٰۃ سے قبل بیچے گئے پلاٹ کی رقم کا آنا

فتوی نمبر :
68685
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

صاحبِ نصاب اور پہلے سے زکوٰۃ ادا کنندہ کے پاس تاریخِ زکوٰۃ سے قبل بیچے گئے پلاٹ کی رقم کا آنا

میں نے اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کے لئے ایک پلاٹ خریدا ہے ،اب میری بیٹی بڑی ہوگئی ہے اور میں یہ پلاٹ بیچنا چاہتا ہوں , یونیورسٹی کی فیس پانچ سال میں ادا کرنی ہے،اب میرا سوال یہ ہے کہ اگلے رمضان کے شروع ہونے پر کچھ رقم میرے پاس ہوگی،کیا اس کی زکوٰۃ دینی ہوگی یا نہیں ؟


الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل اگر صاحبِ نصاب ہو اور رمضان المبارک میں زکوٰۃ کی ادائیگی کرتا آرہا ہو تو ایسی صورت میں مذکور پلاٹ فروخت کرنے کے بعد حاصل شدہ رقم میں سے اگر زکوٰۃ کی تاریخ آنے تک کچھ رقم باقی رہی تو سائل کے ذمہ دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ اس رقم کی زکوٰۃ کی ادائیگی بھی لازم اور ضروری ہوگی ، البتہ اگر زکوٰۃ کی تاریخ آنے سے قبل وہ رقم یونیورسٹی کی فیسوں وغیرہ میں خرچ ہوچکی ہو یا سائل نے اپنی بیٹی کو وہ رقم حوالے کر دی ہو تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ اس رقم کی زکوٰۃ لازم نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و المستفاد) و لو بهبة أو إرث (وسط الحول يضم إلى نصاب من جنسه) فيزكيه بحول الأصل اھ (2/288)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ : و من كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله و زكاه المستفاد من نمائه أولا و بأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك اھ (1/175)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68685کی تصدیق کریں
0     535
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات