زکوۃ و نصاب زکوۃ

گریجویٹی فنڈ پر زکاة کا حکم

فتوی نمبر :
68730
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گریجویٹی فنڈ پر زکاة کا حکم

میری کمپنی سروس کے اختتام پر گریجوٹی فنڈ ادا کرتی ہے جو ہر سال کی خدمت کے لیے ایک تنخواہ ہے، یہ رقم صرف سروس کے اختتام پر ہی ادا کی جاتی ہے، کیا مجھے اس رقم پر ہر سال کی زکوٰۃ دینی ہوگی یا صرف اس وقت کی جب ایک بار رقم مل جائے گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ گریجویٹی کی رقم جب تک وصول نہ ہو تو اس رقم پر زکوٰۃ لازم نہیں، اگرچہ اس پر کئی سال گزر چکے ہوں، چنانچہ سائل پر بھی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ لازم نہ ہوگی، بلکہ مذکور رقم ملنے کے بعد اگر مذکوررقم بقدر نصاب ہو یا دیگر اموال زکوٰۃ کے ساتھ مل کر بقدر نصاب ہو تو سالانہ اڑھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم (و) عند قبض (مائتين منه لغيرها) أي من بدل مال لغير تجارة وهو المتوسط كثمن سائمة وعبيد خدمة ونحوهما مما هو مشغول بحوائجه الأصلية كطعام وشراب وأملاك. ويعتبر ما مضى من الحول قبل القبض في الأصح، ومثله ما لو ورث دينا على رجل (و) عند قبض (مائتين مع حولان الحول بعده) أي بعد القبض (من) دين ضعيف وهو (بدل غير مال) كمهر ودية وبدل كتابة وخلع، إلا إذا كان عنده ما يضم إلى الدين الضعيف۔اھ (2/ 305) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68730کی تصدیق کریں
0     742
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات