زکوۃ و نصاب زکوۃ

مصنوعی ہیرے پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
68828
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مصنوعی ہیرے پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہیرہ اگر اپنی ذات کےلئے ہے اور تجارت کےلئے نہیں ہے تو اس میں زکوۃ نہیں ہے مسئلہ یہ ہے کہ اصلی ہیرے میں زکوۃ نہیں نقلی ہیرے میں زکوۃ ہوگی تو سینتھیٹک اگر ہو تو پھر کیا حکم ہوگا ؟ ہیرے اور جواہرات کی نقلیں بنائی جا تیں ہیں دو طرح سے ایک تو وہ جو شیشے سے بنتی ہیں جسے ہم عام نقلی ہیرے یا نقلی جواہرات کہتے ہیں ، مگر ہیرے کی ایک نقل بالکل اسی طرح سے ان اجزاء ترکیبیہ سے اسی طریقہ سے اس پریشر سے تیار کی جاتی ہے جس سے قدرت نے اسکو تیار کیا ہوتا ہے ، مطلب اتنا دباؤ اتنی ہی گرمائش میں انہیں اجزاء کو رکھ کر ان کو وہی ماحول دیا جاتا ہے تاکہ وہ اسی طرح آپس میں ملیں اور ملتے ہیں اور تخلیق پاتے ہیں جیسے زمین کے اندر بنتے ہیں تو ایسے ہیروں پر کیا زکوۃ ہوگی یا یہ اصل ہیروں کی حکم میں آئیں گے ؟ جبکہ ان کو انسانی آنکھ سے پہچاننا بھی بہت مشکل ہے تقریباً ناممکن جیسا ہی ہے ، ان کیلئے بڑی لیبارٹری سے اسکو چیک کروانا پڑتا ہے جو پاکستان میں صرف ایک یا دو ہیں یعنی ہر شخص ہیرے کو چیک کرواپائے یہ مشکل ہی ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہیرے اور جواہرات خواہ قدرتی ہو یا بناوٹی ، اگر وہ تجارت کی غرض سے نہ ہوں تو ان کی مالیت پر زکوۃ لازم نہیں ، البتہ اگر وہ تجارت کی غرض سے خریدے جائیں تو ایسی صورت میں اگر اس کی مالیت بقدر نصاب ہو یا خرید نے والا پہلے سے صاحب نصاب ہو ، تو سال پورا ہونے کے بعد ان کی مالیت پر بھی زکوۃ واجب ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الجوهرة النيرة على مختصر القدوري : وأما ‌اليواقيت ‌واللآلئ ‌والجواهر فلا زكاة فيها وإن كانت حليا إلا أن تكون للتجارة ( باب زكاة الذهب ، ج 1 ، ص 123 ، ط : المطبعة الخيرية )-
و في الدر المختار : ‌لا ‌زكاة ‌في ‌اللآلئ ‌والجواهر) وإن ساوت ألفا اتفاقا (إلا أن تكون للتجارة) والأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة بشرط عدم المانع المؤدي إلى الثنى وشرط مقارنتها لعقد التجارة ( ‌‌كتاب الزكاة ، ج 2 ، ص 273 ، ط : سعيد)-
و في درر الحكام شرح غرر الأحكام : (‌لا ‌زكاة ‌في ‌اللآلئ ‌والجواهر) كالعل والياقوت والزمرد وأمثالها كذا في الكافي (إلا أن يكون للتجارة) كذا في التتارخانية (زكاة اللآلئ والجواهر ، ج 1 ، ص 175 ، ط : دار إحياء الكتب العربية)-
و في الفتاوى الهندية : ‌وأما ‌اليواقيت ‌واللآلئ ‌والجواهر فلا زكاة فيها، وإن كانت حليا إلا أن تكون للتجارة ( مسائل شتى في الزكاة ، ج 1 ، ص 180 ، ط : دار الفكر،بيروت)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68828کی تصدیق کریں
0     767
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات