السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔
میں ایک کمپنی میں ملازم ہوں۔ ہماری کمپنی پروڈنٹ فنڈ کی مد میں ہر ماہ کچھ رقم ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی کرتی ہے اور اتنی ہی رقم خود ملا کر المیزان انوسٹمنٹ میں بطور امانت جمع کرادیتی ہے۔ اس عمل کی نگرانی کے لیے پروڈنٹ فنڈ ٹرسٹ بھی قائم کیا ہوا ہے اور تین چارملازمین کو بطور ٹرسٹی بھی مقرر کیا ہوا ہے۔ کمپنی کی پالیسی کے مطابق ملازم ضرورت پڑھنے پر سال میں ایک مرتبہ ۵۰ فیصد تک کی رقم ٹرسٹی کو درخواست دے کر فنڈ سے نکلوا سکتا ہے۔ جب تک کمپنی یا ٹرسٹی المیزان کو منظوری نہ دیں، ملازم خود سے یہ رقم نہیں نکلواسکتا۔
سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں زکواۃ کا کیا حکم ہے۔ اگرزکواۃ فرض ہے تو فنڈ کی رقم کو نصاب میں پورا شامل کیا جائے گا یا ۵۰ فیصد ؟
جزاک اللہ۔
صورت مسئولہ میں اگر مذکورکمپنی نے باقاعدہ ایک پالیسی کےتحت ملازمین کے پروایڈنٹ فنڈ کوانوسٹمنٹ کرنے کیلئےٹرسٹ بنایاہوجویہ رقم ’’المیزان ‘‘یاکسی دیگرجائزذرائع آمدن میں انوسٹمنٹ کررہاہواورملازمین بھی اس پالیسی کے ساتھ متفق ہوں تو ایسی صورت میں وہ ٹرسٹ یاادارہ ملازم کا وکیل ہوگا اوروکیل کا قبضہ مؤکل کا قبضہ شمار ہوتا ہےلہذاجوملازم پہلے سے صاحب نصاب ہو یایہ جمع شدہ رقم نصاب تک پہنچ جائے توقمری سال پوراہونے پردیگراموال زکوۃ کے ساتھ ساتھ اس جمع شدہ مکمل رقم پرڈھائی فیصد کے حساب سے ادائیگی زکوہ لازم ہوگی۔
کمافی البحرالرائق:( وصح التصرف في الثمن قبل قبضه ) لقيام المطلق وهو الملك…… وأطلق التصرف قبل قبضه لقيام المطلق فشمل البيع والهبة والإجارة والوصية وتمليكه ممن عليه بعوض وغير عوض، إلا تمليكه من غير من هو عليه، فإنه لا يجوز . وأشار المؤلف بالثمن إلى كل دين، فيجوز التصرف في الديون كلها قبل قبضها من المهر والأجرة وضمان المتلفات، سوى الصرف والسلم کما قدمناه. وأما التصرف في الموروث والموصى به قبل القبض فقدمنا جوازه.( البحر الرائق ط۔دارالکتب الاسلامی 6/ 129)
کمافی بدائع الصنائع:ولو قال لرجل: اقبض مالي على فلان من الدين واعمل به مضاربة، جاز؛ لأن المضاربة هنا أضيفت إلى المقبوض، فكان رأس المال عينا، لا دينا.( بدائع الصنائع ط دارالکتب العلمیۃ 6/ 83)