زکوۃ و نصاب زکوۃ

کمپنی کے اکاؤنٹ میں پراویڈنٹ فنڈ کے نام پر جمع شدہ پیسوں پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
69603
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کمپنی کے اکاؤنٹ میں پراویڈنٹ فنڈ کے نام پر جمع شدہ پیسوں پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! اللہ آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ، میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک کمپنی میں جاب کرتا ہوں ، وہاں پر میرے فنڈ میں تین لاکھ سے اوپر روپیہ موجود ہے ، کمپنی کے اکاونٹ میں ، کیا اس فنڈ میں زکوٰۃ دینا چاہیئے ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی جمع شدہ رقم اگر مذکور کمپنی کے پاس پراویڈنٹ فنڈ کی مد میں جمع ہو تو پراویڈنٹ فنڈ کی مد میں کاٹی جانے والی رقم جب تک ملازم کے قبضہ میں نہ آئے اس وقت تک اس پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی ، لہذا سائل پر مذکور فنڈ میں جمع شدہ تین لاکھ روپوں کی زکوۃ دینا لازم نہیں ، البتہ اگر اس فنڈ میں رقم سائل کی مرضی و اختیار سے جمع ہو رہی ہو تو اس رقم کا سائل کے قبضہ میں آنے کے بعد ، اگر احتیاطاً گذشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کر لی جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ : الزکاۃ فرض علی المخاطب اذا ملک نصابا نامیا حولا کاملا الخ ( کتاب الزکاۃ ج 1 صـ 245 ط : سعید )
و فی التاتارخانیۃ : الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم اذا بلغ نصابا ملکا تاما و حال علیہ الحول ، المضمرات : الملک التام أن یکون ملکہ ثابتا من جمیع الوجوہ و لا یتمکن النقصان فیہ الخ ( کتاب الزکاۃ ج 2 صـ 217 ط : ادارۃ القرآن )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم یعقوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69603کی تصدیق کریں
0     737
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات