زکوۃ و نصاب زکوۃ

گذشتہ چند سالوں کی زکوۃ سے متعلق حکم اور ادائیگی کا طریقہ

فتوی نمبر :
69730
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گذشتہ چند سالوں کی زکوۃ سے متعلق حکم اور ادائیگی کا طریقہ

کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ایک خاتون کے پاس , اس کی ملکیت میں سترہ (17) تولے سونا، بارہ (12) سال تک رہا ،لیکن اس دوران زکوۃ ادا نہیں کی گئی ، اب تقریباً 16 سال سے صرف سات تولہ سونا ملکیت میں ہے ،اور اس کی بھی زکوۃ ادا نہیں کی ہے ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں سترہ تولے سونے کی زکوۃ کی ادائیگی کس طرح ہوگی ، اور بعد میں جو سات تولے باقی بچے ہیں , اس کی زکوٰۃ کی ادائیگی کس طرح ہوگی ؟ یا د رہے کہ اس سات تولہ سونے کے ساتھ کوئی چاندی یا ضرورت سے زائد رقم موجود نہیں ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سترہ تولےسونا ا گر مذکور خاتون کی ذاتی ملکیت ہو ,تو جتنے سالوں کی زکوۃ اس نے ادا نہیں کی، اس کے ذمہ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی لازم اور ضروری ہے، جسکا طریقہ کار یہ ہے کہ مذکور خاتون یا تو سترہ تولےسونے میں سے ہر سال کی زکوٰۃ کے بدلے چالیسواں حصہ ادا کرتی رہے اور جب سونا نصاب کی مقدار سے کم رہ جائے اور اس کے ساتھ چاندی ،نقدی اور مال تجارت میں سے کچھ نہ ہو تو پھر مذکور خاتون کے ذمہ زکوٰۃ لازم نہ ہوگی، یا سونے کی موجودہ مارکیٹ ریٹ معلوم کر کےاس سے ڈھائی فیصد کے حساب سے گزشتہ پہلے سال کی زکوٰۃ ادا کرے، اس کے بعد اگلے سال کی زکوۃ نکالتے وقت پہلے سال کی زکوۃ کی مقدار (ڈھائی فیصد) کو بقیہ مال سے منہا کرکے حساب لگا کر دوسرے سال کی زکوٰۃ ادا کرے، پھر اس سے اگلے سال کا حساب کرتے ہوئے گزشتہ دوسالوں کی زکوۃ کی مقدار کو منہا کرکے بقیہ کل مال کا ڈھائی فیصد نکالے، اسی طرح حساب کر کے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرے، جبکہ16 سال سے مذکور خاتون کے پاس اگر سات تولہ سونا کے ساتھ چاندی ،نقدی اور مال تجارت میں سے کچھ بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں فقط سات تولہ سونے پراس کےذمہ زکوۃ لازم نہ ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الھدایۃ: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما و حال عليه الحول " أما الوجوب فلقوله تعالى: {و آتوا الزكاة} [البقرة: ٤٣] و لقوله صلى الله عليه و سلم " أدوا زكاة أموالكم " و عليه إجماع الأمة اھ (1/95) ۔
و فی بدائع الصنائع: لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين و إنما له و لاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء و الصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا اھ(2/22)۔
و فی الدرالمختار:(نصاب الذهب عشرون مثقالا و الفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل) و الدينار عشرون قيراطا و الدرهم أربعة عشر قيراطا و القيراط خمس شعيرات فيكون الدرهم الشرعي سبعين شعيرة و المثقال مائة شعيرة فهو درهم و ثلاث أسباع درهم اھ(2/295)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69730کی تصدیق کریں
1     837
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات