زکوۃ و نصاب زکوۃ

المیزان انویسٹمنٹ میں رکھی گئی رقم پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
69821
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

المیزان انویسٹمنٹ میں رکھی گئی رقم پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم! میرا نام یاسرولد حبیب ہے، میرے والد صاحب کی عمر اس وقت تقریباً 70سال ہے، جوکہ ایک پرائیوٹ کمپنی میں ملازمت کرتے تھے، اب وہ ریٹائر ہو چکےہیں، 90 کی دہائی میں انہوں نے اپنی نوکری کے دوران قرضوں کی مدد سے ایک فلیٹ لیا، جس میں ہم یعنی امی ابوہم چار بھائی 1996 میں رہنے لگے، میں تیسرے نمبر پر ہوں، مگر اتفاقاً کچھ عرصے بعد 2002 میں میری شادی ہوگئی، ہم بھی ایک نارمل گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور میری بیوی بھی غریب گھرانے سے تھی، اس لئے جہیز تو تھا ہی نہیں، لہٰذا میرے والدین نے مجھے جو فرنیچر گھر میں رکھا ہوا تھا، وہی دے دیا اور تھوڑا سا سونا دیا (جوکہ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی3000 روپے کا میں نے بیچ دیا تھا) اور گھر میں ایک کمرہ میرے نام ہو گیا، میری تعلیم بھی اس وقت صرف میٹرک تھی، جس کے حساب سے مجھے نوکری بھی کم ہی تنخواہ کی ملی، نوکری کے ساتھ ساتھ میں نے تعلیم کو بھی جاری رکھا اور گریجویشن مکمل کی، مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا مہنگائی بھی بڑھتی جاتی اور تنخواہ میں کچھ خاص اضافہ نہ ہوتا اور میری اپنی فیملی ممبر بھی بڑھتے گئے پہلے میں اور بیگم پھر وقت کے ساتھ ساتھ بچے بھی ہوئے اور اب ہم میاں بیوی اور چار بچے ہیں، میرے مالی حالات کو دیکھتے ہوئے ایک مفتی صاحب نے زکوۃ لینے یا زکوۃ پر کوئی علاج کروانے کی اجازت بھی دی تھی کہ میں مستحق ہوں اور زکوۃ نہ دینے میں میرا شمار ہوگا، اکتوبر 2023 کو میرے والد صاحب نے وہ گھر بیچ دیا جسکا پیسہ ہم چاروں بھائیوں میں تقسیم ہو گیا، میرے حصے میں سولہا لاکھ کی رقم آئی، جس میں آپ کو اندازہ ہوگا کہ کوئی گھر نہیں آسکتا، لہٰذا میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں گھر خریدنے کے بجائے کرائے کا گھر لوں، تو میں نے ایسا ہی کیا، اور 21000 روپے ماہانہ کرائے پرگھر لے لیااوراپنا پیسہ (المیزان انویسٹمنٹ) میں رکھوادیا جس سے مجھے منافع کی صورت میں کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے اور منافع میں تھوڑی سی رقم بچ جاتی ہے جو کہ میرے گھر کے خرچ میں کام آتی ہے۔
اب میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ میرے یہ جو سولہا لاکھ المزان انویسٹمنٹ میں رکھے ہیں کیا اس پر مجھے زکوۃ ادا کرنا پڑے گی، کیوں کہ یہ تو ایک کاروبار میں شامل ہو چکے ہیں اور میں آپ کو اپنی زندگی کے بارے میں بتا چکا ہوں کہ میرے مالی حالات کیا تھے، مہربانی فرما کر میرے اس مسئلے کا حل بتائیں، اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور رقم چونکہ نصابِِ زکوۃ (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) سے زائد ہے، لہذا قمری سال مکمل ہونے پر موجودہ اماؤنٹ (اصل رقم اور اس پر جو منافع ہوا ہو) پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی


واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69821کی تصدیق کریں
0     942
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات