میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنے ادارے سے جہاں میں نوکری کرتا ہوں، وہاں سے قسطوں پہ قرضہ لیا، اس قرضے سے میں نے کچھ سونا خرید لیا، مجھے یہ جاننا ہے کہ اس معاملے میں زکوۃ کس طریقے سے لاگو ہوگی؟ کیا مجھے سونےکی قیمت پر زکوۃ دینی ہے یا قرضے پر ؟ جس کی قسطیں میں ابھی دے رہا ہوں، دوسرا سوال یہ ہے کہ میں فی الحال اپنے والدین کے ساتھ رہ رہا ہوں اور میں نے اپنی جمع پونجی سے ایک فلیٹ لیا ہے، تو مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ زکوۃ اس فلیٹ کی قیمت پہ لگے گی یا اس سے آنے والے کرایے پر؟ فی الحال تو کوئی کرایہ نہیں آ رہا ،اوراس فلیٹ کے علاوہ میری ذاتی کوئی ملکیت نہیں، میں نے قسطوں پر کچھ زمین خریدی ہے جس کا ایڈوانس دے چکا ہوں بقیہ رقم قسطوں میں دے رہا ہوں ، تو مجھے ذرا رہنمائی کیجئے گا کہ مجھے زکوۃ کس طریقے سے دینی ہوگی؟
سائل نے اگر مذکور زمین اور فلیٹ تجارت (آگے بیچنے )کی نیت سے نہ خریدے ہوں ، بلکہ کرایہ پر دینے یا اپنی رہائش کیلئے خریدے ہوں،تو ان کی مالیت پر زکوۃ لازم نہیں ، البتہ کمپنی سے لیا گیا کل قرضہ اور زمین کی واجب الاداء اقساط منہا کرنے کے بعد اگر مذکور سونا سمیت نقدی ، سامان تجارت اور چاندی ہوں اور ان کی مالیت بقدر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی ملکیت کے بقدر) ہو تو سالانہ ڈھائی فیصد زکوة لازم ہوگی، ورنہ نہیں۔
كما في الهندية : ( ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا كل دين له مطالب من جهه العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض الخ (ج ۱ ص ۲ ۱۷، ط: ماجدية) -
وفي الجوهرة النيرة : قوله وان كان ماله اكثر من الدين زكى الفاضل إذا بلغ نصاباً الخ (ج1 ص 172)۔
وفي الفقه الاسلامي: اتجه رأس المال في الوقت الحاضر لتشغيله في نواح من الاستثمارات غير الأرض والتجارة، وذلك عن طريق اقامۃ المبانی أو العمارات بقصد الكراء( إلى قوله) وتشترك كلها في صفقة واحدة هي انها لا تجب الزكاة في عينها وانما في ريعها وغلتها أو أربابها اهـ (ج) ص ٧٧٤ ط : رشيدية) -