زکوۃ و نصاب زکوۃ

سوا دو تولہ سونے پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
70422
| تاریخ :
2024-01-20
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

سوا دو تولہ سونے پر زکوۃ کا حکم

میرے حقِ مہر کا سوادو (2) تولہ سونا میری ملکیت ہے ، اس کے علاوہ میرا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ،کیا مجھے اس سونے کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کی ملکیت میں بطورِ حق مہر ملا ہوا سوا دو تولہ سونے کے علاوہ اگر روزمرہ اخراجات سے زائد کیش رقم (اگرچہ معمولی مقدار میں ہو) یا چاندی وغیرہ کچھ بھی نہ ہو، تو سائلہ پر فقط اس سوا دو تولہ سونے کی زکوۃ نکالنا لازم نہ ہوگا، البتہ اگر سائلہ کے پاس مذکور سونے کے علاوہ قلیل مقدار میں بھی روزمرہ اخراجات سے زائد نقدی یا دیگر اموالِ زکوۃ وغیرہ میں سے کچھ بھی موجود ہو،تو ایسی صورت میں فی زماننا مذکور مقدار سونے کی مالیت چونکہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جاتی ہے،اس لیے سونے کی مذکور مقدار اور نقدی وغیرہ کو ملا کر ان کی مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطورِزکوۃ دینا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (وسببہ)ای سبب افتراضھا (ملک نصاب حولی) نسبۃ للحول لحولانہ علیہ (تام) الخ (ج2 ص259 کتاب الزکوۃ ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ:وتضم قیمۃ العروض الی الثمنین والذھب الی الفضۃ قیمۃ الخ (ج1 ص 179کتاب الزکوۃ ط: ماجدیہ)۔
وفی بدائع الصنائع: (فصل) اما الاثمان المطلقۃ وھی الذھب والفضۃ اما قدر النصاب فیھما فالامر لایخلو اما ان یکون لہ فضۃ مفردۃ او ذھب مفرد او اجتمع لہ الصنفان جمیعا فان کان لہ فضۃ مفردۃ فلا زکوۃ فیھا حتی تبلغ مائتی درھم وزنا وزن سبعۃ فاذا بلغت ففیھا خمسۃ دراھم لما روی ان رسول اللہﷺ لما کتب کتاب الصدقات لعمرو بن حزم ذکر فیہ الفضۃ لیس فیھا صدقۃ حتی تبلغ مائتی درھم فاذا بلغت مائتین ففیھا خمسۃ دراھم(الی قولہ)ولو نقص النصاب عن المائتین نقصانا یسیرا یدخل بین الوزنین قال اصحابنا لاتجب الزکاۃ فیہ لانہ وقع الشک فی کمال النصاب فلانحکم بکمالہ مع الشک الخ ج2ص405/406 فصل فی بیان مقدارالنصاب فی الذھب والفضۃط: دارالکتب العلمیۃ)واللہ اعلم بالصواب۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70422کی تصدیق کریں
0     608
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات