زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض پر زکوۃ لازم ہونے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
70475
| تاریخ :
2024-01-22
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض پر زکوۃ لازم ہونے کی ایک صورت کا حکم

زید نے بکر کو کاروبار کے لئے دس (10) لاکھ روپے کا قرض دیا ،اور کہا کہ اگر مجھے زندگی میں ضرورت پڑی تو اسے واپس کرنا ہوگاورنہ معاف ہے، بکر نے موبائل ایسیسسیریز کی دکان کرایہ پر لے کر کاروبار شروع کر دیا، اب زید اور بکر کے لئے ان 10 لاکھ روپے کی زکوٰۃ کا کیا حکم ہے اور کس طرح دینگے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں بکر کو کاروبار کے لئے دیے گئے دس لاکھ روپے زید کی جانب سے چونکہ مکمل طورپر معاف نہیں کیے گئے ،بلکہ ضرورت کے وقت اسے یہ قرض لوٹانے کی صراحت کی گئی ہے، لہذا مذکور دس لاکھ روپے بکر پر زید کا قرضہ شمار ہوگا، جس کی زکوۃ زید پر ہی شرعاً لازم ہوگی، بکر پر ان دس لاکھ روپوں کی زکوۃ نکالنا لازم نہیں، تاہم بکر اگر صاحب نصاب ہو اور یہ دس لاکھ قرض منہا کرنے کے بعد مذکور کاروبار کی مالیت دیگر اموالِ زکوۃ کے ساتھ ملکر بقدر نصاب( ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر) بنتاہو تو اس پر ڈھائی فیصد کے حساب سے ادائیگئِ زکوۃ لازم ہوگی، ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كمافی الهندية :وقوى وهو ما یجب بدلاً عن سلع التجارة إذا قبض اربعين زكى لمامضى
الخ (ج1، ص 175، ط:ماجدیۃ)۔
وفي الدر المختار: واعلم ان الديون عند الإمام ثلاثۃ : قوى و متوسط و ضعيف و (تجب) زكاتها إذا تم نصاباً وحال الحول لكن لا فوراً بل (عند قبض اربعين درهماً من الدین) القوى کقرض الخ (ج2، ص305، ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70475کی تصدیق کریں
0     614
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات