محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بعد سلامِ مسنون عرض یہ ہے کہ میری بیوی صاحبِ نصاب ہے، دو تولہ سونا ہے اور نقدی بھی ہے،میری بیوی نوکری وغیرہ نہیں کرتی ہے،البتہ میں نوکری کرتاہوں، مجھے جو پیسے ملتے ہیں،میں اپنی بیوی کی ملکیت میں دے دیتاہوں،پھر اس کا حساب نہیں لیتا،الحمد للہ سات سال ہوگئے آپس میں محبت سے رہتے ہیں،بچے بھی ہیں اللہ کا شکر ہے،کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ہم اپنے والد صاحب کے گھر میں رہتے ہیں , والدہ کا انتقال ہوگیا، والد صاحب حیات ہیں الحمدللہ،ہمارا کوئی ذاتی مکان نہیں ہے، والد صاحب کے مکان میں بجلی پانی گیس وغیر ہ کا جو خرچہ ہوتا ہے اس میں دو بھائی اور میں ہم سب مل کر ادا کرتے ہیں،میری بیوی کے پاس جو نقدی ہے،چونکہ ہمارا کوئی ذاتی گھر یا مکان نہیں ہے،ہم نے یہ رقم ایک سوسائٹی میں ایک دوست کے ساتھ ملکر پارٹنر شپ میں ایک زمین قسطوں پر لی ہےجس کی کل مالیت کا آدھا 1200000لاکھ بنتی ہے،یہ رقم میری اہلیہ ادا کرتی ہے۔ میں اپنی تنخواہ اہلیہ کی ملکیت میں دے دیتاہوں،جیسا کہ پہلے تحریر کیا گیاہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ جگہ جو میری بیوی نے قسطوں پر لی ہے،اور لی اس نیت سے ہے کہ اس کو کچھ عرصہ بعد بیچ دیں گےتو اس رقم سے کچھ فائدہ ہوگا تو اس سے کوئی جگہ خرید لیں گے،ہمارے بچے اور ہم اس گھر میں رہیں گے، ہم اس جگہ کی جو،اب تک قسطیں ادا ہوگئی ہیں اس رقم کی اور جو سونا میری بیوی کے پاس ہے اس کی کل رقم کی ہرسال زکوٰۃ ادا کرتے ہیں،مجھے ایک ساتھی نے کہا کہ چونکہ یہ جگہ اپنے بچوں کے لئے لی ہے،لہذا اس جگہ کے لئے جو رقم ادا کررہے ہو، اس پر زکوٰۃ نہیں ہے،صرف جو سونا اور جو نقدی میرے بیوی کے پاس ہوگی، اس پر زکوۃ ہوگی،کیا یہ بات درست ہے؟ کیا میری بیوی کو اس جگہ کی جو کل رقم اب تک ادا ہوگئی ہے، اس کی زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے؟ اگر زکوۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے تو جو ادا کردیا، اس کا کیاہوگا؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق چونکہ مذکور پلاٹ آگے بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہے، لہٰذا مذکور پلاٹ بھی اموالِ زکوۃ میں شمار ہو کر اس پر بھی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے زکوۃ لازم ہوگی، البتہ ٹوٹل مالیت سے واجب الادا قسطیں منہا کرکے بقیہ مالیت اور سائل کی بیوی کے پاس موجود سونا اور نقدی رقم پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کما فی رد المحتار: إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول اھ (262/2)۔
وفی الجوھرۃ النیرۃ: (قوله وإن كان ماله أكثر من الدين زكى الفاضل إذا بلغ نصابا) لفراغه عن الحاجة اھ (115/1)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة كذا في المضمرات اھ (179/1)۔
وفی الدر مع الرد: (وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (قوله: كان لها إلخ) لأن الشرط في التجارة مقارنتها لعقدها وهو كسب المال بالمال بعقد شراء أو إجارة أو استقراض اھ (272/2)۔