زکوۃ و نصاب زکوۃ

ساڑھے تین تولہ سونے پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
70688
| تاریخ :
2024-02-02
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ساڑھے تین تولہ سونے پر زکوۃ کا حکم

میرے پاس ساڑھےتین ( 3.5) تولہ سونا ہے ، تو اس پر زکوٰۃ ہوگی اور کتنی ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی ملکیت میں اگر فقط ساڑھے تین (3.5) تولہ سونا ہو اس کے علاوہ چاندی ، مال تجارت ، نقدی میں سے کچھ بھی موجود نہ ہو ،تو ایسی صورت میں فقط ساڑھے تین تولہ سونے کی زکوٰۃ سائل کے ذمہ لازم نہ ہوگی ، البتہ اگر مذکور سونے کے ساتھ سائل کے پاس چاندی، نقدی اور مال تجارت میں سے کچھ بھی موجود ہو ، چونکہ موجودہ حساب سے ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہے ، اس لئے ایسی صورت میں سال پورا ہونے پرسونے کا جو موجودہ مارکیٹ ریٹ ہوگا، اس کے مطابق سائل کے ذمہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی فتاوی الھندیۃ: . وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما،الخ (ج 1 ص 179 الباب الثالث فی ذکاۃ الذھب والفضۃ والعروض ط ماجدیہ)۔
وفی الدرالمختار: (نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل) الخ ( ج 2 ص 295 باب زکاۃ المال ط سعید)۔
وفی ردالحتار: (قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه الخ (ج2 ص 295 باب زکاۃ المال ط سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70688کی تصدیق کریں
0     974
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات